The news is by your side.

Advertisement

گلگت بلتستان میں شہاب ثاقب گرنے کی اطلاعات

گلگت بلتستان : گلگت بلتستان میں رات گئےآسمان روشن ہوگیا، متعدد اضلاع میں روشن ستارہ شہاب ثاقب گرتے ہوئے دیکھا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں رات گئے شہاب ثاقب گرنے کی اطلاعات ملی ہیں ، عوامی سطح پر ملنے والی اطلاعات کے مطابق گلگتمیں دھماکے کی آوازسنی گئی اورآسمان روشنی سے چمک اٹھا، دھماکہ گلگت ، غِذر، دیامیر، گاہ گوچ، اورنگر کے اضلاع میں سنا گیا۔

meteor

 

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے زمین لرزگئی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ دھماکے کی آواز شہاب ثاقب یا ستارے ٹکرانےکی وجہ سے ہوسکتی ہے۔

محکمہ  اطلاعات گلگت بلتستان کا کہنا ہے  کہ گلگت بلتستان کے مطابق شہاب ثاقب گزشتہ رات نو بجے کے قریب آسمان پر دیکھا گیا، شہاب ثاقب کی تیزآواز گلگت سے شندور تک سنی گئی، شہاب ثاقب کے ساؤنڈ بیریئر کراس کرنے سے تیز آواز پیدا ہوئی اور پھر آسمان پر تیز روشنی پھیل گئیں۔

محکمہ اطلاعات کے مطابق شہاب ثاقب کے زمین سے ٹکرانےکی اطلاعات نہیں ملی نہ ہی کہیں اس کے گرنے سے کسی قسم کے نقصان کی اطلاع ملی ہے۔


شہاب ثاقب کیا ہے ؟


کبھی کبھار آپ نے دیکھا ہو گا کہ آسمان سے ایک تارا ٹوٹتا ہے اور روشنی کی تیز لکیر چھوڑ کر غائب ہو جاتا ہے ۔ یہ روشنی کی لکیر بنانے والی چیز شہاب ثاقب یا (میٹیور ) ہے ۔ ’’شہاب‘‘ کے معنی ’’ٹوٹنے والا ستارہ‘‘ اور’’ثاقب‘‘ کے معنی ’’روشن‘‘کے ہیں ۔

mentor-2

گویا شہاب ثاقب کے معنی ٹوٹنے والے روشن ستارے کے ہیں، دراصل شہاب ثاقب ستارے نہیں اور نہ یہ ستاروں کی طرح خود سے روشن ہیں بلکہ جب یہ ہوا سے رگڑ کھا کر جل اُٹھتے ہیں تو روشنی انہیں شہابیے یا میٹیورئٹ کہتے ہیں ۔


مزید پڑھیں : سال 2017 آسمان پرقیامتیں ڈھانے والا ہے


دنیا کے بہت سے عجائب گھروں میں شہاب ثاقب موجود ہیں، جو دنیا کے مختلف ملکوں میں گرے ہوئے ملے، سائنسدانوں نے کی تحقیات کے سے یہ بات سامنے آئی کہ شہاب ثاقب میں وہی دھاتوں کامادہ ملا جوزمین پرموجود ہے۔

انیس سو ترانوے میں کینیڈا اورامریکا میں اتنے شہاب ثاقب گرے کہ ان کا شور دور دور تک سنائی دیا گیا اور لوگ خوف و حیرت سے دم بخود ہوگئے، اٹھارہ سو چھیترمیں شروپ شائرمیں ایک بہت بڑا شہاب ثاقب گرا، جو برطانیہ کے عجائب گھرمیں موجود ہے۔


شہابِ ثاقب کیوں گرتے ہیں؟


سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شہاب ثاقب دم دار ستاروں کے ملبے کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں جو سورج کے گرد باقاعدہ مدار بناتے ہیں یہ ملبہ گیسوں اور منجمد برفیلے کنکروں پر مشتمل ہوتا ہے اور جب دم دار ستارے گزرتے ہیں تو ان کی دم سورج کی مخالف سمت نکلتی اور پھیلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر ایک سو تینتیس سال کے بعد ایک بہت بڑا دم دار ستارہ ہمارے نظام شمشی کے اندرونی حصے میں لہراتا ہو داخل ہوتا ہے اور اپنے پیچھے گرد اور کنکروں کی ایک قطار سی چھوڑتا ہوا گزر جاتا ہے۔

اس کے بعد جب زمین اس ملبے کے پاس سے گزرتی ہے تو یہ کنکر یا ذرات ایک سو چالیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہماری فضا میں گرتے ہیں اور روشنی کے جھماکوں کی صورت پھیلتے اور ہمیں گرتے ہوئے ستاروں کی صورت دکھائی دیتے ہیں۔


ماضی میں شہابِ ثاقب گرنے کے بڑے واقعات


سنہ 1908ء میں سائبیریا میں شہاب ثاقب کے گرنے کا واقع پیش آیا تھا جس سے تقریباً دوہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ تباہ ہوگیا تھا۔

بیسیویں صدی کے دوران زمین پر دو بڑے شہاب گرے تھے۔ ان میں سے ایک کا وزن 60 ٹن تھا۔ 27 ستمبر 1969 ء کو مرچی سن، آسٹریلیا میں ایک شہاب گرا تھا۔ اس کے وزن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارچوں کی پٹی سے وجود میں آتا تھا۔

سنہ 2013ء کے دوسرے مہینے میں وسطی روس میں یورل کے پہاڑوں پر شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کی بارش کے باعث تقریباً سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں