The news is by your side.

Advertisement

آسمان سے جلتے ہوئے پتھروں کی بارش

آسمان سے مینہ برستے تو ہم سب آئے روز دیکھتے رہتے ہیں مگر آسمان سے جلتے پتھروں کی بارش کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ سنگی بارش صدیوں سے انسان کے تجسس کو بھڑکائے ہوئے ہے اور قدیم تہذیبوں میں اس حوالے سے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں مگر موجودہ دور میں سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی میں روز افزوں پیش رفت کی بدولت یہ گتھی انسان نے سلجھا لی ہے ۔

یہ پتھر دراصل فلکیاتی چٹانیں ہیں جو پوری کائنات کی طرح ہمارے نظام ِ شمسی میں آوارہ گردی کر رہے ہیں ۔انھیں ’میٹی یور‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ پتھر اِدھر اُدھر بھٹکتے ہوئے جب سیارۂ زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا کی رگڑ ان کا اندرونی درجۂ حرارت بڑھا دیتی ہے،جس کے باعث یہ بھڑک اٹھتے ہیں اور زمین سے دیکھنے پر یہ روشن پتھروں کی بارش معلوم ہوتی ہے جسے ’میٹی یور شاور‘ کہا جاتا ہے ۔

عموما ََ میٹی یور شاورز کا مشاہدہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی دم دار ستارہ زمین کے پاس سے گزرتا ہے ۔ چونکہ دم دار ستارے بھی سورج ہی کے گرد محو ِ گردش ہیں لہذا‘ انکی دم سے خارج ہونے والی’ڈسٹ ‘ یا چھوٹے چھوٹے چٹانی پتھر دھار کی صورت میں پیچھے رہ جاتے ہیںجنھیں ” شوٹنگ سٹار ” یا ” فالنگ سٹار ” بھی کہا جاتا ہے یہ دراصل خلا میں ہر جانب بکھرے ہو ئی چٹانیں یا کنکریاں ہیں جو سائز میں نسبتا ًبڑی ہو تی ہیں اور لاکھوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے تیس سے اسی میل کی بلندی پر گرتے نظر آتے ہیں ، لیکن ان میں سے کوئی شاذو نادر ہی زمین پر آگرتا ہے ‘ کیونکہ ہوا سے مسلسل رگڑ کے باعث زمینی ماحول میں یہ جل کر راکھ ہوجاتے ہیں ۔ اگرچہ ایک شاور میں یہ پتھر ہر جانب سے گرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اگر ان کے راستے کی خط کشی کی جائے تو معلوم ہوگا کہ سارے پتھر خلا کے ایک مخصوص علاقے یا مقام سے آرہے ہوتے ہیں لہذا ٰ ہر میٹی یور شاور کا نام “کانسٹی لیشن” یا برج ( ستاروں کا جھرمٹ ) کے نام کی مناسبت سے رکھا جاتا ہے ۔

گلگت بلتستان میں شہاب ثاقب گرنے کی اطلاعات*

گذشتہ ہفتے دنیا بھر میں 20-21 اور 21-22 کی راتیں فلکیات کے شیدائیوں کی توجہ کا مرکز رہیں جب انھیں آسمان سے ان جلتے پتھروں کی بارش دیکھنے کا موقع ملا‘ یہ ایونٹ اس حوالے سے منفرد رہا کہ چاند کی ابتدائی تاریخوں کے باعث افق پر زیادہ روشنی نہ تھی ، یوں گرتے ہوئے میٹی یور کا با آسانی مشاہدہ کیا گیا ۔ 21 اور 22 اکتوبر کی رات مشا ہدہ کی جانے وال پتھروں کی بارش کو ’اورینائڈ میٹی یور شاور‘ کا نام دیا گیا تھا کیونکہ یہ’اورین کانسٹی لیشن ‘ کی جانب سے تھی ۔ اور دنیا بھر سے کروڑوں شائقین نا صرف اس انوکھی بارش سے لطف اندوز ہوئے بلکہ ’ایسٹروگرافرز‘ نے اسے اپنے کیمروں میں ہمیشہ کے لیئے مقید بھی کیا ۔

لیکن اگر کسی وجہ سے آپ اس دلفریب منظر کو دیکھنے اور اپنے کیمرے میں مقید کرنے سے قاصر رہے تو فکر کی چنداں ضرورت نہیں ، اگلے ماہ نومبر اور دسمبر میں آپ کو یہ موقع دوبارہ حاصل ہونے والا ہے۔ سال 2017 کے لیے ناسا کی جانب سے جاری کردہ فلکیاتی کیلنڈر کے مطابق اس برس کے اختتام تک تین مختلف کانسٹی لیشنز کی جانب سے یہ میٹی یور شاور مزید دیکھنے کو ملے گی ،جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ واضح رہے کہ ناسا ہر برس کے آغاز میں سال بھر میں رونما ہونے والے اہم فلکیاتی عوامل اور ایونٹس کا ایک کیلنڈر جاری کرتا ہے ۔

ٹورڈ میٹی یور شاور : فلکیات کے شائقین 10-11 نومبر کی درمیانی شب اس بارش کانظارہ کر سکین گے جو دراصل دم دار ستارے ’اکی‘ کی دم سے خارج ہونے والی دھار کے باعث نظر دکھائی دے گی ۔ چونکہ یہ ٹورس کانسٹی لیشن کی جانب سے زمین کی طرف گریں گے اس وجہ ا سے
ٹورڈ میٹی یور شاور کا نام دیا گیا ہے ۔ لیکن یہ یورپ اور بر طانیہ میں دیکھا جاسکے گا اور ا س میں گرنے والے پتھر بھی نسبتا ََ سست رفتار ہوں گے اور مکمل چاند کی وجہ سے یہ ز یادہ واضح بھی نہیں ہوگا ۔

لیو نائڈ میٹی یور شاور : شوٹنگ یا فالنگ سٹارز کی بارش کبھی بھی محض ایک رات تک محدود نہیں ہوتی بلکہ عموما ََ یہ ہفتوں تک گرتے نظر آتے رہتے ہیں، گیارہ نومبر کے صرف چند دن بعد 16-17 نومبر کی درمیانی شب لیو کانسٹی لیشن کی جانب سے لیونائڈ میٹی یور شاور وقوع پزیر ہوگا جسے ابتدائی چاند کی تاریخوں کے باعث بہت واضح دیکھا جا سکے گا۔

فلکیاتی پتھروں کی یہ بارش دم دار ستارے ٹیمپل ٹٹل کی دم سے اخراج شدہ دھار کے باعث ہوگی اور فی گھنٹہ پندرہ میٹی یور گرتے ہوئے دکھائی دیں گے یہ دم دار ستارہ 1865میں دریافت ہوا تھا اور اس کا سورج کے گرد ایک چکر تینتیس سال میں مکمل ہوتا ہے سو لیونائڈ شاور اس حوالے سے منفرد ہے کہ فلکیات کے شائقین اتنے ہی برس بعد دوبارہ اس نظارے سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

جیمی نائڈ میٹی یور شاور : ایک ماہ کے وقفے کے بعد سال 2017 کی آخری میٹی یور شاور سے آپ 14-15 دسمبر کی رات لطف اندوز ہو سکتے ہیں جسے جمینی کانسٹی لیشن کی مناسبت سے جیمی نائڈ شاور کا نام دیا گیا ہے جسے علی الصبح تین سے چار بجے کے درمیان بہت واضح دیکھا جا سکے گا ۔

اگر آپ فلکیات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور 12 اگست یا 21 اکتوبر کی راتوں کی طرح فلکیاتی پتھروں اور چٹانوں کی بارش دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کو اس کے لیے آبادی اور ’لائٹ پولوٹڈ ‘ علاقوں سے دور ایسے مقامات کا رخ کرنا ہوگا جہاں مصنوعی روشنی بالکل نہ ہو اور آپ با آسانی متعلقہ کانسٹی لیشن کی طرف رخ کر سکیں ،میٹی یور شاوزر کا سادہ آنکھ سے بھی با آسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے قطعادور بین یا مخصوص فلکیاتی گلاسز کی ضرورت نہیں ہوتی ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں