The news is by your side.

Advertisement

میٹریلز سائنس اور ڈیزائن: دنیا بھر میں نئے انقلاب کی دستک

یہ 1878ء کی بات ہے، تھامس ایلوا ایڈیسن نے ایسا بلب ایجاد کرنے کا تہیہ کیا جسے عوام سستے داموں خرید سکیں۔

تاریخِ انسانی کے اس مشہور موجد کو ایسا چھوٹا گھریلو بلب تیار کرنا تھا جو تھوڑی حدّت خارج کرے، طویل عرصہ چلے اور اس میں کم بجلی خرچ کرنے والے آلے نصب ہوں۔

ایڈیسن نے بنیادی طور پر فطری جبلت کی راہ نمائی سے ہزار ہا کاربنی مادّے (Materials) آزمائے اور انھیں ٹیسٹوں سے گزارا جن میں لکڑی اور ناریل کے خول سے لے کر اپنے لیبارٹری اسسٹنٹ کے بال تک شامل تھے۔ چودہ ماہ کی محنت کے بعد آخرکار وہ کاربنی سوتی دھاگے سے بنا فلامنٹ (Filament) بنانے میں کام یاب رہے۔

گھریلو بلب کی ایجاد کو امریکی میڈیا نے ’’عظیم ترین ایجاد‘‘ کہہ کر پکارا۔ حالاں کہ بلب ابھی ناپختہ حالت میں تھا۔ یہی وجہ ہے، صرف بیس سال بعد ایک امریکی موجد، ولیم ڈیوڈ کولج نے 1910ء میں ٹنگسٹن فلامنٹ ایجاد کر لیا۔ اسی ایجاد نے تاریک رات میں دنیا کو روشن کر ڈالا۔ ایڈیسن کا تیار کردہ فلامنٹ قصۂ ماضی بن گیا۔

یہ زیادہ مفید فلامنٹ ایک سائنسی علم ’’میٹریلز سائنس‘‘ کے ذریعے وجود میں آیا۔ اس علم سے وابستہ سائنس دان مختلف مادّوں پر تحقیق کر کے نیا خام مادّہ ایجاد کرتے ہیں۔ ایک سو سال قبل یہ ابتدائی حالت میں تھی‘ لیکن آج یہ بڑا اہم اور انسان دوست علم بن چکا۔

وجہ یہ ہے کہ ’’کوانٹم طبیعات‘‘ کی مدد سے ماہرین مادّوں کے سربستہ راز اور اسرار جان چکے ہیں۔ کوانٹم طبیعات علم طبیعات کی ایسی شاخ ہے جس میں مادّوں کا انتہائی عمیق یعنی ایٹمی سطح پر مطالعہ ہوتا ہے۔ چناںچہ اب سائنس دان بہتر طور پر جاننے لگے ہیں کہ فلاں مادّ کی خوبیاں و خامیاں کیا ہیں اور اُسے کیوں کر استعمال کرنا ممکن ہے۔

صبر آزما طویل دور
میٹریلز سائنس کی تمام تر ترقی کے باوجود آج بھی نئے مادّوں کی تیاری بڑا کٹھن اور رکاوٹوں سے پُر کام ہے۔ کمپنیاں نئے مادّے کی کھوج میں تحقیق و تجربات پر بلامبالغہ اربوں روپے خرچ کر ڈالتی ہیں، لیکن کام یابی کم خوش نصیبوں ہی کو ملتی ہے۔

بالعموم محقّق و ماہرین، فطری ذہانت اور تجربے کے باعث کوئی نیا خیال سوچتے ہیں۔ بعدازاں یہ خیال وسیع پیمانے پر تجربوں سے گزرتا ہے، مگر اکثر تجربات ناکام رہتے ہیں حتیٰ کہ ایک نئے مادّے کی جانچ پرکھ میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور نتیجہ عموماً صفر نکلتا ہے۔

مثال کے طور پر ممتاز امریکی ادارے‘ میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محقق، تھامس ایگار نے تحقیق سے دریافت کیا کہ ایک کام یاب مادّہ لیبارٹری سے مارکیٹ تک پہنچنے میں پندرہ سے بیس سال لگا دیتا ہے۔ جب جاپانی کمپنی، سونی نے 1991ء میں لیتھیم آیون بیٹریاں بنانے کا اعلان کیا، تو لگتا تھا کہ وہ بس آیا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن ہزاروں ماہرین دو عشرے تک یہ بیٹریاں بہتر بنانے کی تگ و دو میں لگے رہے، تبھی وہ مارکیٹ میں آئیں۔

انقلاب کی دستک
خوش قسمتی سے میٹریلز سائنس اب نئے دور میں داخل ہو چکی اور ایک انقلاب کی آمد آمد ہے۔ دراصل پچھلے ایک سو برس کے دوران طبیعیات اور کمپیوٹر سائنس کی زبردست ترقی نے انسان کو اس قابل بنا دیا کہ وہ ایڈیسن طریق کار سے جان چھڑاسکے۔ وجہ یہ کہ اب ماہرین سپر کمپیوٹروں کی مدد سے نت نئے مادّے بہت جلد اور زیادہ پائیدار حالت میں ایجاد کرنے لگے ہیں۔ سائنسی اصطلاح میں اس تکنیک کو ’’ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن (High throughput Computational materials design) کا نام دیا جا چکا ہے۔

اس تکنیک کا بنیادی نکتہ بڑا سادہ ہے… یہ کہ سپر کمپیوٹروں کی مدد سے بیک وقت سیکڑوں یا ہزار ہا کیمیائی مرکبات کا مطالعہ کیا جائے۔ یوں کسی بھی نئے مادّے… بیٹری الیکٹروڈ، کچ دھات یا سیمی کنڈیکٹر کی تشکیل کے واسطے بہترین مسالے و سیمنٹ کی تلاش و انتخاب اب بہت سہل مرحلہ بن چکا ہے۔

مادّوں کی دنیا
یاد رہے کہ قدرتی طور پر ملنے والے بیشتر مادے مختلف کیمیائی مرکبات سے بنتے ہیں۔ بیٹری الیکٹروڈز (Electrodes) ایسے مرکبات کی نمایاں مثال ہیں۔ لیکن کچھ سادہ بھی ہیں جیسے گریفائٹ! اس مادے کو الیکٹرونکس کا مستقبل قرار دیا جا رہا ہے اور یہ کاربن کے صرف ایک ایٹم سے بنی شیٹ پر مشتمل ہے۔

مادّے کے مرکبات سادہ ہوں یا پیچیدہ، اس کی خصوصیات( سختی، ٹھوس پن، چمک، موصلیت وغیرہ) ہمیشہ وہ ایٹم جنم دیتے ہیں جن سے مادّہ بنتا ہے۔ اسی لیے ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن کے پہلے مرحلے میں انہی خصوصیات کا ایٹمی سطح پر مطالعہ کیا جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ سپر کمپیوٹر مادّوں کے ہزار ہا مرکبات تشکیل دیتا ہے۔ ماہرین پھر ان ورچوئل مرکبات کی خصوصیات پر تحقیق کرتے ہیں… مثلاً یہ کہ وہ سختی میں کیسے ہیں؟ روشنی کیوں کر جذب کرتے ہیں؟ جب انھیں موڑا جائے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ انسولیٹر (Insulator) ہیں یا دھاتیں؟

اسی تحقیق کی روشنی میں سائنس دان دیکھتے ہیں کہ کون سے مرکبات نئے مادّے بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مطلوبہ مادّہ تیار کرنے کے بعد نتائجِ تحقیق ڈیٹا بیس میں محفوظ ہو جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں کام آ سکیں۔

اس وقت امریکا‘ برطانیہ‘ جرمنی اور فرانس سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین میٹریلز سائنس پر مل کر کام کررہے ہیں تاکہ ہائی تھروپٹ کمپیوٹیشنل میٹریلز ڈیزائن کی بدولت اس سائنسی شعبے میں انقلاب لا سکیں۔ وہ اپنے منصوبے کو ’’میٹریلز پروجیکٹ‘‘ کا نام دے چکے ہیں۔ ان کا مشن ایسے زبردست ڈیٹابیس کا قیام ہے جس میں سبھی غیرنامیاتی (Inorganic) مرکبّات کی تھرموڈائنامک اور الیکٹرونک خصوصیات جمع ہو جائیں۔

ماہرین اب تک فطرت میں پائے جانے والے ’’35000‘‘ غیرنامیاتی مادّوں کی بنیادی خصوصیات ڈیٹابیس میں جمع کر چکے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ موصل (کنڈکٹر) ہے یا حاجز (انسولیٹر)؟ وہ روشنی کو کیسے برتتا ہے وغیرہ۔ مزید برآں سائنس دان ایسے چند ہزار مادّوں کی خصوصیات بھی نوٹ کر چکے جو فی الوقت صرف نظریاتی طور پر پائے جاتے ہیں۔

اُدھر امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی میں ماہرین کا ایک گروہ سپر کمپیوٹروں کی مدد سے کچ دھاتوں (Alloys) کی خصوصیات دریافت کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا مشن ہلکے پھلکے مگر انتہائی مضبوط کار فریم، اسٹرکچرل بیمیں برائے بلند عمارت اور ہوائی جہازوں کے ڈھانچے تیار کرنا ہے۔ غرض وہ وقت قریب ہے جب میٹریلز سائنس کے ماہرین سپر کمپیوٹروں کی مدد سے قریباً ہر شے تیار کریں گے۔ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ کمپیوٹنگ کی ٹیکنالوجی ہماری دنیا تبدیل کر ڈالے گی… تب آلودگی قصۂ پارینہ بن سکتی ہے، وافر بجلی جنم لے گی اور زندگی گزارنا اتنا سہل و آرام دہ بن جائے گا کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

ٹچ اسکرین سے اسمارٹ فون تک
واضح رہے کہ جدید دنیا کی بنیادیں انہی ایجادات پر استوار ہیں جو میٹریلز سائنس کے ذریعے وجود میں آئیں۔ ان میں گلاس سے بنی شفاف موصل اسکرینیں قابل ذکر ہیں کیوں کہ انہی نے یہ ممکن بنایا کہ ٹیلی ویژن و کمپیوٹر سے لے کر اسمارٹ فون تک بنائے جا سکیں۔

آج آپ بذریعہ اسمارٹ فون روشنی کی رفتار سے دنیا بھر میں معلومات بھیج سکتے ہیں۔ یہ انقلاب اسی لیے آیا کہ ماہرینِ میٹریلز سائنس نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا کہ گلاس کو فاضل آیونز (Ions) سے پاک کیا جا سکے۔ یوں فائبر آپٹک کمیونیکیشنز انجام دینا ممکن ہو گیا۔

مادّوں کی خصوصیات کا جادو
جیسا کہ پہلے بتایا گیا، قدرت میں 35000 غیرنامیاتی مادّے پائے جاتے ہیں۔ ان ہزار ہا مادّوں کی اپنی لاکھوں خصوصیات ہیں۔ انہی خصوصیات کا مطالعہ جدید میٹریلز سائنس کی بنیاد ہے۔ مثلاً جدید تحقیق سے ماہرین جان چکے کہ معدنیات کے کرسٹل کی ہیئت تبدیل کرنے سے ان کا رنگ بدلا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر لعل (Ruby) کو لیجیے۔ اس کی سرخ رنگت نے ایک ندرت کے باعث جنم لیا۔ وہ یہ کہ معدن کورونڈم (Corundum) میں ایک فیصد المومینم کی جگہ کرومیم آیون شامل ہو گئے۔ اسی معمولی تبدیلی کے باعث کورونڈم عام معدن سے قیمتی لعل میں تبدیل ہوا اور روشنی میں سرخ نظر آنے لگا۔

گویا ماہرین میٹریلز سائنس یہ جان چکے کہ لعل سرخ رنگت کیوں کر حاصل کرتا ہے۔ سو اب وہ مصنوعی (Synthetic) طریقوں سے بھی اُسے بنانے کے قابل ہو چکے ہیں۔ وہ لعل سے ملتے جلتے مادّوں میں متعلقہ خصوصیات پیدا کر کے حقیقی لعلوں سے ملتے جلتے یہ قیمتی پتھر تیار کر سکتے ہیں۔

میٹریلز سائنس کا سنہرا دور
سپر کمپیوٹروں کے ذریعے مادوں کی خصوصیات کا مطالعہ اور ان سے نئے مادّے ایجاد کرنے کا فن ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ تاہم ماہرین یہ پیش بینی ضرور کر چکے کہ دنیائے انسانیت کو مستقبل میں اس سے کتنے فوائد حاصل ہوں گے۔ ان کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔

اِن میں سرفہرست انسان دوست توانائی (Clean-energy) پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیاں ہیں۔ نت نئے مادوں کی ایجاد سے انھیں عمل میں لانا آسان ہو جائے گا۔ مثلاً ٹائٹینم ڈائی آکسائیڈ جیسے فوٹوکیٹا لائٹک مادے بننے سے ممکن ہو جائے گا کہ دھوپ اور پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن میں بدلا جا سکے۔ ان گیسوں کو پھر مائع ایندھن میں ڈھالا جائے گا۔ دیگر فوٹوکیٹالائٹک مادّے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ بھی یہی عمل انجام دیں گے۔

ماہرین کا خواب یہ ہے کہ ایسا ’’مصنوعی پتّا‘‘ تیار کیا جائے جو دھوپ اور ہوا کو میتھانول سے ملتے جلتے مائع ایندھن میں بدل سکے۔ یہ ایندھن پھر چولھوں سے لے کر کاروں اور ہوائی جہازوں تک جلایا جائے گا۔

اسی طرح ماہرین کی ایک منزل یہ ہے کہ گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی ہلکی مگر مضبوط کچ دھاتیں تیار کی جائیں۔ وجہ یہ کہ ایک کار کا وزن محض 10 فی صد بھی کم ہو جائے، تو وہ 8 فی صد کم ایندھن کھاتی ہے۔ اسی لیے آٹو موبائل صنعت سے وابستہ بڑی کمپنیاں محققوں کو اربوں روپے دے رہی ہیں تاکہ وہ نئی کچ دھاتیں اور مادّے بذریعہ تحقیق ایجاد کر سکیں۔ ذرا سوچیے اگر گاڑیاں اور مشینیں ہلکی پھلکی مضبوط و پائیدار میٹریلز سے بننے لگیں تو ایندھن کی بے پناہ بچت ہو گی۔ یوں خصوصاً ٹرانسپورٹیشن اور کنسٹرکشن کے شعبوں میں انقلاب آ سکتا ہے۔

درج بالا وجوہ کی بنا پر ماہرین کو یقین ہے کہ میٹریلز سائنس و ڈیزائن کا نیا سنہرا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔

(تحریر و ترجمہ: سیّد عاصم محمود)

Comments

یہ بھی پڑھیں