راولپنڈی : 200 ملازمین کی برطرفیوں کیخلاف میٹرو بس کے ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے بس سروس مکمل طور پر معطل ہوگئی تاہم مطالبات تسلیم کرنے کی تحریری یقین دہانی کرادی گئی۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کے 200 کے قریب ملازمین نے بغیر کسی نوٹس کے نوکریوں سے برطرف کیے جانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔
احتجاج کے باعث جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس مکمل طور پر معطل ہو گئی، جس سے ہزاروں مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
برطرف ملازمین، جن میں خواتین اسٹاف بھی شامل تھیں، مظاہرین میٹرو بس اسٹیشن پر جمع ہوئے اور روٹ بلاک کر کے شدید نعرے بازی کی، مظاہرین کا مؤقف تھا کہ میٹرو بس سروس کا ٹھیکہ ایک نئی کمپنی کو دیا گیا ہے، جس نے آتے ہی 150 سے 200 پرانے ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے یکم مئی سے برطرف کرنا شروع کر دیا۔
مظاہرین نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ 8 سے 10 سال سے میٹرو بس سروس میں کام کر رہے ہیں اور ان کا موجودہ کنٹریکٹ 2027 تک تھا، لیکن نئی کمپنی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے ملازمین کو نکال کر نئے لوگ رکھ لیے ہیں۔
مزید برآں برطرف ملازمین کو گزشتہ دو ماہ کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں، مظاہرین نے مقتدر حلقوں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ اس مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں ان کے معاشی قتل کا نوٹس لیا جائے۔
احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے حرکت میں آتے ہوئے مظاہرین کے نمائندوں کو مذاکرات کی دعوت دی۔
تھانہ آئی نائن میں پولیس، انتظامیہ اور میٹرو بس سروس کے مظاہرین کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے، مظاہرین نے بقایاجات کی فوری ادائیگی اور ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریری یقین دہانی مانگی۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مطالبات تسلیم کرنے کی تحریری یقین دہانی پر ملازمین نے احتجاج ختم کر دیا، جس کے بعد راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کو مسافروں کے لیے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔


