The news is by your side.

Advertisement

ایم ایچ 17 طیارے کی تباہی کا ذمہ دار روس ہے، نیدرلینڈ اور آسٹریلیا کا الزام

ماسکو : سنہ 2014 میں تباہ ہونے والے ملائیشین طیارے کی تحقیقاتی رپورٹ میں تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ طیارے پر داغے گئے میزائل روسی بریگیڈ کے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سنہ 2014 میں ملائیشیا کی فضائی کمپنی کے تباہ ہونے والے مسافر طیارے کی تحقیقاتی رپورٹ جمعرات کے روز شائع کردی گئی، بین الااقوامی تفتیش کاروں کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کی جانب سے روس کو واقعے کا ذمہ دار ٹھرایا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ملائیشین ایئر لائن کا ایم ایچ 17 طیارہ 298 مسافروں کو لے کر ایمسٹرڈیم سے کوالمپور جارہا تھا جسے یوکرائن میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے سے میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ عالمی تفتیش کاروں نے جمعرات کو مکمل ہونے والی اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ طیارے پر داغے گئے میزائل روسی بریگیڈ کے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کا کہنا تھا کہ امریکا نے تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کی حمایت کا اعلان کیا ہے، امریکی وزارت خارجہ نے جاری بیان میں کہا ہے کہ روس نیدرلینڈز اور آسٹریلیا کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے صحیح جوابات دے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ روسی افواج کی جارحیت سے یوکرائن میں دس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں ملائیشین طیارے کے مسافر بھی شامل تھے، اب وقت آگیا ہے کہ روس اپنی بربریت کا اختتام کرے۔

دوسری جانب روس نے سنہ 2014 میں ملائیشین طیارے پر میزائل داغنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’روس تفتیش کاروں کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کو مسترد کرتا ہے، رپورٹ میں اخذ کیا گیا نتیجہ متنازعہ ہے‘۔

یاد رہے کہ سنہ کی تباہی کے بعد روسی نے مؤقف اختیار کیا ہوا تھا کہ ایم ایچ 17 کو تباہ کرنے میں کسی قسم کا روسی اسلحہ استعمال نہیں ہوا‘۔

خیال رہے کہ تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ’جس قافلے سے ملائیشین طیارے پر میزائل داغے گئے تھے، اس قافلے میں شامل تمام گاڑیاں روسی افواج کا حصہ تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں