پولینڈ‘ امریکہ سے جنگِ عظیم دوئم کے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا -
The news is by your side.

Advertisement

پولینڈ‘ امریکہ سے جنگِ عظیم دوئم کے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا

 

وارسا: پولینڈ عنقریب امریکہ سے ایک ایسے شہری کی حوالگی کا مطالبہ کرے گا جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جنگ عظیم دوئم میں 44 پولش باشندوں کی موت میں ملوث ہو کر انسانیت کے خلاف جرم کا مرتکب ہوا تھا۔

پولینڈ کی حکومت سے وابستہ انسٹیٹیوٹ آف نیشنل ریممبرینس (آئی پی این) نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اس شخص کا نام مائیکل کے ہے اور شبہ ہے کہ اس نے 1944ء میں مشرقی پولینڈ میں مقامی لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ اُس وقت جرمن نازیوں کی زیر قیادت ایک دفاعی یونٹ کا کمانڈر تھا۔

آئی پی این کا کہنا تھا کہ اس حکم سے متعدد دیہاتوں کو نذر آتش اور عمارتوں کو تباہ کیا گیا۔

جنگِ عظیم دوئم میں استعمال ہونے والا طیارہ‘ دریا میں گرکرتباہ

دوسری جانب مائیکل کارکوک جس کی عمر اب 98 سال ہے اس کے اہل خانہ تواتر سے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اوراس کے اہل خانہ کے بقول وہ الزائمر کے مرض کا شکار ہے۔

آئی پی این کے ایک وکیل رابرٹ جانسکی نے بین الاقوامی خبررساں ایجنسی “روئٹرز” کو بتایا کہ “ہماری تحقیقات کے مطابق مائیکل اس کا مرکزی ملزم ہے۔ یہ یقین ہے کہ امریکہ میں مقیم اس شخص نے دیہاتوں کے لیے یہ حکم دیا۔ ہم نے جتنے ثبوت جمع کیے ہیں جس میں زیادہ تر دستاویزات ہیں، ان سے اس تصدیق ہوتی ہے۔”

آئی پی این نے پولینڈ کے شہر لوبلن کی ایک عدالت سے کہا ہے کہ وہ مائیکل کے کے نام کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے جو کہ اس کی حوالگی کی درخواست کے لیے پہلا قدم ہوگا۔

جانسکی نے مائیکل کے کا خاندانی نام قوانین کے باعث واضح نہیں کیا، لیکن امریکی خبر رساں ایجنسی “ایسوسی ایٹڈ پریس” اسے مائیکل کارکوک ظاہر کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ منیسوٹا کا رہائشی ہے۔

2013ء میں خبر ایجنسی کی طرف سے شائع ہونے ایک مضمون میں کارکوک کے نازیوں کے ساتھ تعلقات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا تھا اور اس کے بقول اس شخص کے امریکہ منتقل ہونے سے جرمنی اور پولینڈ میں اس سے متعلق تحقیقات تیز کردی گئی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں