منگل, جون 9, 2026
اشتہار

مائیکل: جنون کا سفر اور تنہائی (فلم ریویو)

اشتہار

حیرت انگیز

دنیا بھر میں معروف شخصیات کی زندگیوں پر فلمیں بنتی ہیں، جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے اپنے شعبوں میں کام یاب ہوئے۔ ایسی ہی شہرۂ آفاق شخصیت مائیکل جیکسن کی ہے، جس کے چاہنے والے اُس وقت بھی کروڑوں میں تھے، جب سوشل میڈیا نہیں‌ تھا۔ آج اس کی زندگی پر بنائی گئی فلم کو دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے پسند کیا ہے اور اس نے باکس آفس پر نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔ وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ مائیکل جیکسن کے پرستار دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں اور اس سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت مائیکل جیکسن پر بننے والی فلم کی شان دار کام یابی ہے۔ مائیکل جیکسن کی زندگی کو اس فلم میں کس طرح سے پیش کیا گیا ہے، یہ آپ اس تبصرے میں جان سکتے ہیں۔

کہانی/ اسکرپٹ

مائیکل جیکسن کے والد جوزف جیکسن نے 1966ء میں اپنے بیٹوں جیکی، ٹیٹو، جرمین، مارلن اور مائیکل کو میوزیکل بینڈ "جیکسن فائیو” میں اکٹھا کیا، جس میں مائیکل جیکسن اپنے بھائیوں سے کم عمر ہونے کے باوجود مرکزی گلوکار تھے۔ مہینوں کی محنت اور سخت مشقت کے بعد، جس میں والد کی طرف سے جسمانی سزا بھی شامل ہے، جیکسن فائیو بینڈ کو شہرت ملی اور وہ امریکا میں تیزی سے مقبول ہونے لگا۔ ان کے گانے میوزک چارٹ میں سرفہرست نظر آنے لگے اور وہ امریکہ کے مختلف شہروں میں کنسرٹ کرنے لگے، جس کے ساتھ ہی 1971ء میں وہ سب گیری، انڈیانا کے ایک چھوٹے سے گھر سے نکل کر کیلیفورنیا کے علاقے اینسینو میں ایک بڑے گھر میں منتقل ہوگئے۔ مائیکل جیکسن کی 1978ء میں پہلی سولو البم کی کام یابی کے باوجود وہ تنِ تنہا اپنے میوزیکل کانسرٹ کرنا چاہتا تھا، مگر اس کے والد رکاوٹ بنے رہے، ان کا خیال تھا کہ مائیکل جیکسن کو اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔

اس عرصے میں مائیکل ایک طرف شہرت کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو دوسری طرف وہ تنہائی کا احساس بڑھتا جارہا تھا۔ مائیکل کی شہرت کا آغاز اس کے بچپن ہی میں‌ ہوگیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنا بچپن عام بچوں کی طرح نہیں‌ گزار سکا۔ اسے اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیلنے کا بہت موقع کم ہی ملا۔ اس نے مائیکل کی زندگی میں ایک خلا پیدا کر دیا جس کو پورا کرنے کے لیے اس نے بندر اور کئی دوسرے جانور اپنے گھر میں پالے۔ اپنی جلد کی رنگت اور ناک نقشے کے حوالے سے مائیکل حساسیت کا شکار رہا۔ شہرت پانے کے بعد اس نے ناک کی سرجری کروائی اور اس کی کام یابی کا سفر آگے بڑھتا رہا۔

80 کی دہائی میں مائیکل جیکسن نے اپنے بھائیوں کے ساتھ عالمی سطح پر کام یاب میوزیکل ٹور کیے، لیکن ساتھ ساتھ اپنے انفرادی کیریئر کے لیے بھی سوچ بچار کرتا رہا۔ آخرکار 80 کی دہائی کے آخری برسوں میں اس نے اپنا راستہ الگ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک میوزیکل ٹور کے دوران اس کا اعلان بھی کر دیا۔ مائیکل کے والد اس پر سیخ پا ہوئے، مگر یہ وہ موڑ تھا، جہاں سے مائیکل جیکسن نے پیشہ ورانہ طور پر اپنا راستہ الگ کرلیا۔

یہ فلم کہانی کو یہیں تک بیان کرتی ہے۔ سوانح عمری پر مبنی یہ فلم مائیکل جیکسن کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے انفرادی میوزیکل ٹور تک کی کہانی ہے، جو ان کی زندگی کی ابتدائی دو تین دہائیوں پر مشتمل ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اس فلم کا دوسرا حصہ بھی بنے گا، کیونکہ فلم کا اختتام اس جملے پر ہوتا ہے کہ "تاریخ کا سفر ابھی جاری ہے۔” اس فلم کو جان لوگن (John Logan) نے لکھا ہے، جو اس سے پہلے گلیڈیٹر (2000ء)، دی لاسٹ سمورائی (2003ء) اور اواتار (2004ء) جیسی فلمیں لکھ چکے ہیں۔ اس فلم کی کہانی کچھ سست روی کا شکار ہے، خاص طور پر والد سے مائیکل کے جھگڑے کو بہت نمایاں کیا گیا ہے، جب کہ اس کی بجائے مائیکل کے بھائیوں اور ان کی کم عمری کی زندگی کی فن کارانہ جدوجہد کو اور بہتر طور سے نمایاں کرنا چاہیے تھا۔ مائیکل جیکسن کی متنازع زندگی کو حصہ بنانے سے گریز کیا گیا ہے، جو اخلاقی طور پر درست فیصلہ لگتا ہے۔

فلم سازی

اس فلم کا بجٹ دو سو ملین ڈالرز ہے اور یہ باکس آفس پر اب تک سات سو ملین ڈالرز سے زائد کمائی کرچکی ہے۔ اس فلم کی پروڈکشن سے متعلق اہم فیصلوں میں جیکسن فیملی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور خاص طور پر مائیکل جیکسن کی والدہ کیتھرین جیکسن اس میں شامل ہیں۔ اس فلم کے تین بڑے مرکزی پروڈکشن اداروں میں لائنز گیٹ فلمز، جی کے فلمز اور اوپٹمم پروڈکشن کے نام شامل ہیں۔ ڈسٹری بیوشن میں لائنز گیٹ فلم کے ساتھ ساتھ یونیورسل پکچرز بھی شامل ہیں۔ رواں برس اپریل کے مہینے میں اوّلین ریلیز کے بعد یہ فلم مختلف ممالک میں الگ الگ تاریخوں پر ریلیز کی گئی۔ پاکستان میں اس فلم کو اپریل کے آخری ہفتے میں ریلیز کیا گیا۔ 127 منٹس کے دورانیے پر مشتمل فلم مائیکل کے موسیقار لیوروزنر ہیں جب کہ سینماٹوگرافر ڈیون بیبی ہیں۔ اس فلم کی پروڈکشن میں امریکا، برطانیہ سمیت آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے ہنر مند بھی شامل ہیں۔ اسی طرح فلم کی ریلیز کے حقوق بڑی فلمی صنعتوں کو بھی فروخت کیے گئے ہیں، جن میں جاپان جیسا ملک بھی سرفہرست ہے، جہاں کینو فلمز نے اس فلم کو ریلیز کیا ہے۔ اس فلم نے "اوپن ہائیمر” جیسی بائیوپک فلم کے ابتدائی کمائی کے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں کسی فلم کی ابتدائی کمائی کے بھی نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔

ہدایت کاری

اس فلم کے ہدایت کار امریکی فلم ساز انتون فوکا ہیں، جن کے کیریئر کی ابتدا 1998ء میں "دی ریپلیسمنٹ کلر” جیسی فلم سے ہوئی تھی، کہا جاسکتا ہے کہ ان کا آغاز ہی دھماکے دار تھا۔ دیگر مقبول فلموں میں ایکوالائزر جیسی معروف فلم سیریز بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس فلم مائیکل کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا ہے، جو پاپ میوزک کی دنیا کے شہنشاہ کہلانے والے اس گلوکار کی حقیقی زندگی سے قریب ترین ہے۔ فلم کے فریم، کانسرٹس کے سین، مختلف سچویشنز، جن میں جذباتی اور پیشہ ورانہ دونوں شامل ہیں، ان کو بہت اچھے طریقے سے عکس بند کیا ہے۔ یہ کہنا چاہیے کہ مجموعی طور پر وہ ایک عہد کو اسکرین پر پیش کرنے میں کام یاب رہے ہیں۔

film director

اداکاری/ موسیقی

فلم مائیکل کو اداکاری کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بہت مضبوط ہے۔ تمام اداکاروں نے اپنی اپنی جگہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن مائیکل جیکسن کے کردار میں دو اداکار بلاشبہ اپنے فن کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔ ان میں چائلڈ ایکٹر جولیانو والڈی اور نوجوان اداکار جعفر جیکسن شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ والد کے کردار میں کولمین ڈومنگو، والدہ کے کردار میں نِیا لونگ، محافظ کے کردار میں کیلین ڈوریل جونز، میوزک پروڈیوسر کے کردار میں مائلز ٹیلر شامل ہیں۔ ان سب میں جعفر جیکسن بہت سب پر گویا بازی لے گئے۔ انہوں نے مائیکل جیکسن کی جسمانی حرکات و سکنات، پرفارمنس کے دوران اس کے ہر انداز، آواز کے اتار چڑھاؤ، لب و لہجے اور رقص جیسے ہر حرکت اور اس کی شخصیت کے ہر نمایاں پہلو کو بہت اچھے طریقے سے نبھایا ہے۔ کم عمر مائیکل جیکسن کے کردار میں جولیانو والڈی نے بھی اسکرین پر اپنی پرفارمنس سے بہت متاثر کیا اور فلم بینوں‌ کے دلوں کو چُھو لیا۔ یہ دونوں اداکار مائیکل جیکسن کے اندر کے انسان کو، ان کے احساسات کو اور ان کی تنہائی کو منعکس کرنے میں کام یاب رہے ہیں۔ اس فلم میں ساؤنڈ ٹریکس کے طور پر مائیکل جیکسن کے 13 گیت شامل ہیں، جن میں جیکسن فائیو کے دور کے گیت اور ان کی پرائیویٹ البمز آف دی وال (1979)، تھریلر (1982)، اور بیڈ (1987) شامل ہیں۔

آخری بات

یہ فلم بتاتی ہے کہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والا انسان تنہا بھی ہو سکتا ہے، اور ہر انسان کی طرح اس کی کچھ محرومیاں ہوسکتی ہیں، لیکن جب وہ زندگی کے سفر میں آگے بڑھتا ہے تو شہرت بھی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔ ایسا شخص شہرت بلندی پر پہنچتا ہے تو دنیا کو صرف اس کی کام یابی نظر آتی ہے، مگر اس چکاچوند کے پیچھے تاریکیاں اور مشکلات دکھائی نہیں دیتیں۔ اس فلم کی کہانی زندگی کے انہی زاویوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ ذاتی زندگی میں جو بھی ہو رہا ہو، پیشہ ورانہ طور پر آپ کو ڈسپلن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے والا ہی کام یابی کی معراج کو پاسکتا ہے۔ یہ فلم آپ کو ضرور دیکھنی چاہیے، کیونکہ جس گلوکار کے گیتوں نے ہماری زندگی کو کئی قیمتی یادیں عطا کیں، یہ اسے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ فلم بھی اچھی بنی ہے، جو آپ کو اپنے ماضی میں لے جائے گی، جو مائیکل جیکسن کے گیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ فلم بڑے پردے پر جاکر دیکھیے، وہاں ایک "ناسٹیلجیا” آپ کا منتظر ہے۔

 

+ posts

خرّم سہیل صحافی، براڈ کاسٹر، مترجم، اردو زبان میں عالمی سینما کے ممتاز ناقد اور متعدد کتابوں کے مصنّف ہیں۔ وہ پاکستان جاپان لٹریچرفورم کے بانی بھی ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ان کے نام سے فالو کیا جاسکتا ہے جب کہ بذریعہ ای میل [email protected] بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اہم ترین

خرم سہیل
خرم سہیل
خرّم سہیل صحافی، براڈ کاسٹر، مترجم، اردو زبان میں عالمی سینما کے ممتاز ناقد اور متعدد کتابوں کے مصنّف ہیں۔ وہ پاکستان جاپان لٹریچرفورم کے بانی بھی ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ان کے نام سے فالو کیا جاسکتا ہے جب کہ بذریعہ ای میل [email protected] بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں