پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

مائیکل اینجلو: عالمی شہرت یافتہ مصوّر اور مجسمہ ساز

اشتہار

حیرت انگیز

عالمی شہرت یافتہ مصوّر اور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کے فن کو جہاں بے حد پذیرائی ملی، وہیں اس کے فن پاروں پر ناقدین نے طویل مضامین اور مقالے بھی تحریر کیے ہیں۔ دنیا مائیکل انجلو کو عظیم فن کار کے طور پر یاد کرتی ہے جس کے فن پارے مشہور آرٹ گیلریوں کی زینت ہیں۔

مائیکل اینجلو کے فن و شخصیت پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں‌۔ آرٹ کے ناقدوں کے نزدیک اس نے انسانی جسم کو روحانی اور ڈرامائی انداز میں اپنے فن پاروں میں پیش کرکے انفرادیت کا اظہار کیا اور کلاسیکی روایت کو اپناتے ہوئے اس میں نفسیاتی گہرائی شامل کی ہے۔ مائیکل انجلو نے اپنے فن کو سماجی اور مذہبی علامتوں کے ساتھ جوڑ کر اسے وہ وسعت عطا کی ہے جس کا اثر معاشرتی ہے۔ تاہم بعض فن کاروں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ مائیکل اینجلو کا فن عوامی جذبات سے زیادہ اشرافیہ اور مذہبی طاقت کی نمائندگی کرتا ہے اور مخصوص طبقات کو برتری اور تفاخر کے احساس سے دوچار کرتا ہے۔ ان ناقدین کا خیال ہے کہ مائیکل اینجلو نے عریانی کا سہارا لے کر فن میں انا یا ذاتی عظمت کا اظہار کیا ہے۔

مائیکل اینجلو کو دنیا سے رخصت ہوئے صدیاں بیت چکی ہیں۔ مؤرخین نے اس کی تاریخِ وفات 18 فروری 1564ء لکھی ہے۔ پاکستانی ادیب، سوانح نگار، محقق و مؤرخ پروفیسر احمد عقیل روبی نے مشاہیرِ عالم پر کئی معلومات افزا مضامین رقم کیے ہیں جن میں مائیکل انجلو بھی شامل ہے۔ آج مائیکل انجلو کے یومِ‌ وفات کی مناسبت سے احمد عقیل روبی کے ایک مضمون سے چند سطریں ملاحظہ کیجیے۔

پادری دوست نے ایک بار اس سے بڑے افسوس ناک لہجے میں کہا:’’کاش تم نے شادی کی ہوتی، تمہارے بھی دو چار بچے ہوتے۔‘‘

اس نے پوچھا:’’ تو پھر کیا ہوتا؟‘‘

’’کم از کم آنے والی نسلوں تک تمہارا نام تو پہنچتا۔ تمہاری نسل تو پھلتی پھولتی۔‘‘

’’یہ دونوں چیزیں میرے فن میں موجود ہیں جو ہر پل مجھے سرگرمِ عمل رکھتی ہیں۔ میں جو فن چھوڑ کر جاؤں گا، یہی میرے بچّے ہیں۔ اگرچہ یہ فن اس قابل نہیں لیکن میں اسی حوالے سے آنے والی نسلوں میں زندہ رہوں گا۔‘‘

اس نے اپنے فن کے بارے میں کم اندازہ لگایا۔ وہ اپنے اس عظیم فنی ورثے کے حوالے سے آج بھی زندہ ہے اور جب تک فنی باریکیوں کو سمجھنے والے زندہ ہیں وہ زندہ رہے گا۔ صدیوں سے دلوں میں زندہ رہنے والا یہ شخص مائیکل اینجلو ہے جو 1475ء میں کیپرس (Caprese) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ اس قصبے کا مشیر تھا جسے پوڈیسٹا کہا جاتا تھا۔ مائیکل ابھی سات سال کا ہی تھا کہ اس کی ماں فوت ہوگئی۔ مائیکل اینجلو کو ایک سنگ تراش اور اس کی بیوی کے ساتھ رہنا پڑا جہاں اس کے باپ کی پتھر کی فیکٹری تھی۔ اس کے والد نے 13 سال کی عمر میں اسے پڑھنے کے لئے فلورنس بھیجا مگر اسے پڑھائی لکھائی سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ اس نے تحریر کے مقابلے میں ڈرائنگ، سنگ تراشی اور مجسمہ سازی کو اہمیت دی اور مصوری سے اسے بہتر تصور کیا۔

مائیکل اینجلو کی نظر میں فطرت نے ایک ظلم یہ کیا ہے کہ بڑے بڑے اعلیٰ شاہکار پتھروں میں قید کر دیے ہیں، اس کے نزدیک مجسمہ ساز کا یہ کام ہے کہ وہ انہیں تراش کے پتھروں کی قید سے رہائی دلائے۔ اس کا خیال تھا کہ ہر پتھر میں ایک مجسمہ ہے۔ مجسمہ ساز غیر ضروری پتھر الگ کر کے نقش و نگار نمایاں کرتا ہے۔ سقراط نے برسوں پہلے یہی بات کہی تھی کہ پتھر میں ایک شکل موجود ہوتی ہے۔ مجسمہ ساز اسے پتھر سے باہر نکالتا ہے۔ مائیکل اینجلو نے اسی بات کی تائید کی ہے۔ اردو کا ایک نامعلوم شاعر اس بات کو اپنے شعر میں کچھ یوں لکھتا ہے:

جب کسی سنگ سے ٹھوکر کھائی
نا تراشیدہ صنم یاد آئے

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں