امریکی خاتون اول مشیل اوباما کی تقریر، مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور -
The news is by your side.

Advertisement

امریکی خاتون اول مشیل اوباما کی تقریر، مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور

فیلا ڈیلفیا : ری پبلکن کنونشن کے بعد امریکا میں چارروزہ ڈیموکریٹک کنونشن جاری ہے، پہلے روز امریکی خاتون اول مشیل اوباما کی تقریراہم رہی جس کی ناقدین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔

فیلا ڈیلفیا میں ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کا آغاز ڈرامائی انداز میں ہوا ، ڈیمو کریٹک نیشنل کمیٹی کی چیئرپرسن ڈیبی ویزرمین نے کنونشن کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا، جس کی وجہ ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ وہ ای میلز تھیں، جن میں ڈیموکریٹ پارٹی کے متعدد اراکین کو برنی سینڈرز کی مہم کیخلاف سازشوں کا مرتکب پایا گیا۔

کنونشن میں ہی برنی سینڈرز کی جانب سے ہیلری کلنٹن کی حمایت کرنے کی تقریر پر لوگوں کی جانب سے تنقید کی بھی گئی۔ تاہم ان سب پر خاتون اول مشیل اوباما کی تقریر نے مرہم رکھا، جس کی ناقدین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔

مشیل اوباما کا کہنا تھا کہ ہر صبح وہ اس گھر میں بیدار ہوتی ہیں جو کہ غلاموں نے تعمیر کیا تھا اور اسی وائٹ ہاؤس کے لان میں ہر صبح اپنی سیاہ فام بیٹیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہے

انھوں نے کہا کہ امریکا نے غلامی کی روایت ختم کرنے کیلئے بڑی جدو جہد کی، کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ امریکا گریٹ نہیں، اور نہ ہی ہم سے کوئی یہ پوچھ سکتا ہے کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد کہاں سے آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لئے بغیر مشیل اوباما کا کہنا تھا کہ جب کوئی گری ہوئی بات کرتا ہے تو ہم اور بلند ہوجاتے ہیں۔

مشیل اوباما نے صدارتی الیکشن میں ہلیری کلنٹن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہلیری کلنٹن ہی امریکہ کے صدر کے عہدے کے لیے سب سے بہتر امیدوار ہیں، امریکہ کے وزیر خارجہ کے طور پر ہلیری کلنٹن نے شاندار کام کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں