زیورخ (16 فروری 2026): میڈیکل سائنس میں جدید ٹیکنالوجی کا ایک اور کمال سامنے آیا ہے، ننھا روبوٹ شریانوں میں موجود خون کے لوتھڑے ختم کرے گا۔
زیورخ کے سائنس دانوں نے ایک حیرت انگیز مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے جو جسم کی مختلف شریانوں میں جا کر خون کے جمے ہوئے لوتھڑوں کو ختم کر سکتا ہے، یہ خوردبینی روبوٹ انجکشن کے ذریعے باریک رگوں میں داخل کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر مقناطیسی لہروں سے اسے کنٹرول کر سکتے ہیں اور لوتھڑے تک پہنچا کر دوا خارج کر دی جائے گی، جس کے نتیجے میں خون کا بہاؤ فوراً بحال کیا جا سکے گا۔
یہ طبی ٹیکنالوجی میں نئی پیش رفت ہے، یہ انتہائی باریک روبوٹس ہیں جنھیں مقناطیسی میدان سے کنٹرول کیا جاتا ہے، یہ خون کی نالیوں میں سفر کر سکتے ہیں، تنگ اور پیچیدہ راستوں سے بھی گزر جاتے ہیں، اور خون کے لوتھڑے توڑنے یا گھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاص طور پر فالج کے علاج میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
View this post on Instagram
زیورخ کے وفاقی ادارۂ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف ٹوئنٹے/ریڈباؤڈ میڈیکل سینٹر کے سائنس دانوں نے ان کا جانوروں پر کامیاب تجربہ کیا ہے، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ روایتی علاج کا بہتر متبادل یا معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈیزائن
یہ مائیکرو روبوٹس عموماً تھری ڈی پرنٹنگ سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی شکل پیچ نما یا گول ہوتی ہے اور ان کا حجم عموماً ایک ملی میٹر سے بھی کم ہوتا ہے۔ انھیں حیاتیاتی طور پر موافق مواد سے بنایا جاتا ہے، جن میں جِل نما خول، مقناطیسی کنٹرول کے لیے آئرن آکسائیڈ نینو ذرات، اور بعض اوقات ایکس رے میں نمایاں دکھائی دینے کے لیے ٹینٹالم نینو ذرات شامل ہوتے ہیں۔
رہنمائی اور رفتار
بیرونی مقناطیسی میدان کی مدد سے ان روبوٹس کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ خون کے بہاؤ کے الٹ سمت میں بھی حرکت کر سکتے ہیں۔ یہ دماغ کی باریک اور پیچیدہ خون کی نالیوں سمیت تنگ یا مڑے ہوئے راستوں سے گزرنے اور رکاوٹ کی جگہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی رفتار 4 ملی میٹر فی سیکنڈ یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، جب کہ بعض ڈیزائنز نے کمپیوٹر ماڈلز میں 20 سینٹی میٹر فی سیکنڈ تک رفتار حاصل کی ہے۔
لوتھڑا ختم کرنے کا طریقۂ کار
یہ روبوٹس دو مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی استعمال کرتے ہیں۔ اوّل، میکانی عمل کے ذریعے پیچ نما ڈیزائن انھیں لوتھڑے میں داخل ہو کر اسے جسمانی طور پر توڑنے میں مدد دیتا ہے۔
دوم، کیمیائی عمل کے طور پر یہ روبوٹ دوا پہنچانے والے نظام کی طرح کام کرتا ہے۔ یہ لوتھڑا گھولنے والی دوا، جیسے ٹشو پلازمینوجن ایکٹیویٹر (tPA)، براہِ راست رکاوٹ کی جگہ پر پہنچاتا ہے۔ اس سے پورے جسم میں زیادہ مقدار میں دوا دینے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جس سے اندرونی خون بہنے جیسے مضر اثرات کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
انسانوں پر تجربات
ان روبوٹس کی حرکت کو حقیقی وقت میں سہ جہتی ایکس رے رہنمائی کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے، جس سے انھیں درست مقام تک پہنچانا ممکن ہوتا ہے۔ ان روبوٹس کا کامیاب تجربہ ایسے سلیکون ماڈلز پر کیا گیا ہے جو انسانی خون کی نالیوں کی نقل کرتے ہیں، جب کہ زندہ جانوروں، خصوصاً خنزیروں اور بھیڑوں میں بھی ان کی آزمائش کی گئی ہے۔
محققین ان روبوٹس کی حیاتیاتی مطابقت کو مزید محفوظ بنانے، پیچیدہ ماحول میں ان کی رہنمائی کو بہتر کرنے اور آئندہ 5 سے 10 برسوں میں انسانی طبی آزمائشوں کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ فالج کے علاج کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی رسولیوں یا انفیکشن کے علاج کے لیے دوا پہنچانے، یا شریانوں میں جمع شدہ چکنائی (ایتھروسکلروسیس) کو صاف کرنے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں




