پیر, مارچ 16, 2026
اشتہار

مائیکروسافٹ اے آئی چیف نے وائٹ کالر ملازمیں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

اشتہار

حیرت انگیز

مائیکروسافٹ کے اے آئی چیف مصطفیٰ سلیمان نے کہا ہے کہ کچھ ہی عرصے میں اے آئی وائٹ کالر ملازمین کی جگہ لے سکتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مائیکروسافٹ کے اے آئی چیف مصطفیٰ سلیمان نے کہا کہ اے آئی بہت جلد پیشہ ورانہ کاموں میں انسانی سطح کی کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔

مائیکروسافٹ کے اے آئی چیف مصطفیٰ سلیمان نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے 12 سے 18 ماہ کے اندر زیادہ تر وائٹ کالر ملازمتوں کو خودکار بنا سکتی ہے۔جس سے بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

مصطفیٰ سلیمان نے خاص طور پر وکلاء، اکاؤنٹنٹس، پروجیکٹ مینیجرز اور مارکیٹنگ کے شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ان کی زیادہ تر ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔

انہوں نے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی مثال دی جہاں ملازمین اب کوڈنگ کے لیے بڑے پیمانے پر اے آئی کا سہارا لے رہے ہیں۔ دیگر ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اے آئی کی ترقی یونہی جاری رہی تو بے روزگاری کی شرح 80 فیصد تک جا سکتی ہے، جس سے سرجنز اور سی ای اوز بھی متاثر ہوں گے۔

اس صورتحال پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے اسے "معاشی زلزلہ” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی سے صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان کو نہیں بلکہ عام ورکرز کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔

مائیکروسافٹ اس وقت کو پائلٹ جیسے ٹولز اور اوپن اے آئی میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کی قیادت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے وقت میں معاشی اور سماجی اثرات پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کی توقع ہے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں