The news is by your side.

Advertisement

مائیکرو سافٹ میں‌ روبوٹ صحافیوں‌ کو نوکری مل گئی، درجنوں ملازمین فارغ

نیویارک: امریکا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے ایم ایس این سروس جاری رکھنے کے لیے روبوٹ استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے درجنوں ملازمین کو فارغ کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کمپنی نے ایم ایس این (MSN) کی ویب سائٹ پر خبریں شائع کرنے کے لیے درجنوں صحافیوں کی جگہ جدید ترین نظام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت اب سسٹم پر مدیر (ایڈیٹرز) کی جگہ روبورٹ ڈیوٹی انجام دیں گے اور وہ خبریں منتخب کرکے انہیں ویب سائٹ پر پابندی سے شائع کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ نے روبوٹ سے خبریں شائع کرنے کے حوالے سے تجربہ بھی کیا، جو خاصہ  کامیاب رہا۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مستقبل میں ویب سائٹ کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہی چلایا جائے گا۔

مائیکروسافٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا آغاز  کاروباری نوعیت کا جائزہ لینے کے بعد کیا کیونکہ اس میں ہر ماہ تنخواہ دینے کے بجائے ایک بار روبوٹ خرید کر اُس میں پروگرامنگ کی ضرورت پیش آئے گی۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس منصوبے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے روبوٹ کو دوسری پوزیشنز پر بھی تعینات کیا جاسکتا ہے‘۔ مائیکروسافٹ کے مطابق روبوٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کرونا کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ یہ منصوبہ گزشتہ کئی سالوں سے زیر غور تھا۔

رپورٹ کے مطابق جون کے آخر تک تقریباً 50 کنٹریکٹ نیوز پروڈیوسرز اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے لیکن فی الوقت صحافیوں کی ایک ٹیم باقی رہے گی جو روبوٹ ایڈیٹرز کے کام کو دیکھتی رہے گی۔

امریکی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک صحافی نے انکشاف کیا کہ مصنوعی ذہانت ( آرٹی فشل انٹیلی جنس) کے بعد سیکڑوں صحافیوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا، ہم نے جب سُنا کہ ہماری جگہ مشینیں لے رہی ہیں تو ہمارے حوصلے پست ہوگئے کیونکہ اس کی وجہ سے تو ہمارا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے‘۔

رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ نے ابھی سے اپنے ملازمین کو برطرف کرنا شروع کردیا ہے۔ صحافتی تنظیم کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’آرٹی فشل انٹیلی جنس اداریے کے سخت رہنما خطوط سے پوری طرح واقف نہیں ہوسکتی اور ممکن ہے یہ روبوٹ ایڈیٹر نامناسب خبریں بھی شائع کرنے لگیں جو ادارے کی بدنامی کا باعث بھی بن سکتی ہیں‘۔

دی گارڈین کی خبر کے مطابق ملازمت سے محروم ہونے والوں میں سے 27 صحافیوں کا تعلق برطانیہ کے پی اے میڈیا سے ہے جن کے ذریعے انہیں مائیکروسافٹ میں ملازمت ملی تھی۔

اخبار سے وابستہ ایک صحافی نے کہا کہ’میں اپنا سارا وقت یہ پڑھنے میں لگاتا ہوں کہ آٹومیشن اور اے آئی کس طرح ہماری تمام ملازمتیں لے لیں گی اور اس نے میری ہی ملازمت لے لی۔’

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں