site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

بصیرت سے محروم افراد کے لیے موبائل ایپلی کیشن تیار

واشنگٹن: نابینا اور کلر بلائنڈنیس کے شکار افراد کے لیے مائیکرو سافٹ نے ایسی ایپلی کیشن تیار کرلی جو رنگوں کے درمیان فرق بتانے اور نابینا افراد کو چیزوں کی پہچان کروانے میں مدد فراہم کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق بینائی سے محرومیت اور رنگ کی شناخت نہ کرنے کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مائیکرو سافٹ نے ایک ایسی ایپلی کیشن تیار کی ہے جو رنگوں کے درمیان فرق کروانے میں مدد فراہم کرے گی۔

مائیکرو سافٹ کی جانب سے اس ایپلی کیشن کو ’’کلر بائینو کیولرس‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ابھی صرف آئی او ایس فونز کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس میں ایک خاص فلٹر شامل کیا گیا ہے جو رنگوں کے درمیان تمیز کر کے صارف کو بتانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


پڑھیں: ’’ پاکستانی عوام کی تکلیفوں کا مداوا کرنے کے لیے موبائل ایپ ’مرہم‘ آگئی ‘‘


یہ ایپ  مختلف رنگوں کو مرض کی 3 اقسام میں تقسیم کر کے  تصاویر کو اپنی جانب سے خاص رنگ میں تبدیل کرتا ہے تاکہ بلائنڈ افراد اسے بہتر طور پر دیکھ سکیں۔ اس میں اشیاء کو مختلف رنگوں کے شیڈز دیے گئے ہیں تاکہ مرض کا شکار افراد کچے اور پکے گوشت میں بھی فرق کرسکیں۔

ایپ میں موجود فلٹر کھینچی جانے والی تصویر کو تین رنگوں سرخ سبز، سبز سرخ اور نیلے پیلے کلر میں تبدیل کرتا ہے کیونکہ کلر بلائنڈ افراد انہی تین رنگوں سے چیزوں کو آسانی سے پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


مزید پڑھیں: ’’ عوام کی تکلیفوں کا مداوا کرنے کے لیے موبائل ایپ ’مرہم‘ آگئی ‘‘


حیران کن امر یہ ہے کہ یہ ایپ اوورٹون نامی انجینئیر نے تیار کی ہے جو خود بھی کلر بلائنڈ کے مریض ہیں، مائیکروسافٹ کی دریافت اُن تمام لوگوں کے لیے بڑا تحفہ ہے جو بصیرت سے محروم ہیں یا پھر رنگوں میں تمیز نہیں کرسکتے۔

اوورٹون کے مطابق اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے متاثر افراد پھولوں کے رنگ، کپڑوں کی میچنگ اور میک اپ کرنے کے لیے بآسانی استعمال کرسکتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ایپ مخصوص مرض میں مبتلا افراد کے لیے بنائی گئی ہے جو رنگوں کی شناخت میں اُن کی مدد کرتی ہے۔

app-post

یہ ایپ اُن تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو بصارت سے محروم ہیں پا پھر رنگوں کی شناخت میں تمیز نہیں کرسکتے، اس ایپ فائل سائز 14.6 ایم بی ہے اور صارفین کے لیے یہ بالکل مفت فراہم کی گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top