اسلام آباد (4 مارچ 2026): حکومت نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ملک میں توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلہ کر لیا۔
اس متعلق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں توانائی کی بچت کیلیے قومی ایکشن پلان بنانے اور وفاق، صوبے اور آزاد کشمیر حکومت سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جمعرات کو پورے ملک کے چیف سیکریٹری قومی ایکشن پلان ترتیب دینے کیلیے مشاورت کریں گے۔
اجلاس میں علاقائی صورتحال کے پیش نظر توانائی سپلائی پر اعلیٰ سطح جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جس کے بعد پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور ایوی ایشن فیول کے اسٹاک تسلی بخش قرار دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کی تیل کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کا کوٹہ مقرر کردیا، قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ
اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور شپنگ روٹس کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
شرکا کو بتایا گیا کہ ایل این جی اور ایل پی جی سپلائی چین کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔
اجلاس میں متبادل سپلائی روٹس اور دوست ممالک سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ریڈ سی اور گلف کی بندرگاہوں کے ذریعے توانائی درآمدات پر غور کیا گیا۔ ریفائنری آپریشنز کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلیے اقدامات کی ہدایت کی گئی جبکہ توانائی بچت اقدامات قومی ہنگامی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا گیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ذخیرہ اندوزی، اسمگلنگ اور ڈائیورژن روکنے کیلیے سخت ہدایات کی گئیں۔
صوبائی چیف سیکریٹریز کل کے اجلاس میں شریک ہوں گے، قومی ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کیلیے مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا علی پرویز ملک، رانا تنویر اور اویس احمد لغاری نے شرکت کی۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


