پیرس (27 مارچ 2026): مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے بیچ جاری جنگ کے حوالے سے فرانس کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین ووترین نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، فرانس کا مؤقف صرف دفاعی اور غیر جارحانہ ہے۔
کیتھرین ووترین نے کہا کہ فرانس کی حکمت عملی خطے میں کشیدگی سے بچنے کیلیے سفارتی نقطہ نظر پر مبنی ہے، امن کیلیے صرف سفارتی حل اہم اور مؤثر ہے۔
’فرانس آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ نہیں لے گا‘
واضح رہے کہ 18 مارچ کو فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے امریکا اور اسرائیل پر واضح کر دیا تھا کہ فرانس کبھی آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔
فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ہم اس تنازع کے فریق نہیں ہیں، موجودہ صورتحال میں ہرمز کھولنے کے کسی آپریشن میں حصہ نہیں لیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فرانس اتحاد کی تیاری پر کام کر رہا ہے جو کشیدگی ختم ہونے کے بعد آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت فراہم کرے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے بھی اپنے بیان میں کہا تھا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں شامل نہیں ہوگا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


