The news is by your side.

Advertisement

صرف سانس لینے اور توشہ خانہ کی گھڑیاں لینے پر ٹیکس نہیں: مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت نے کھانے پینے کی اشیا پر ظالمانہ اور مجرمانہ ٹیکسز لگا دیے ہیں، صرف سانس لینے اور توشہ خانہ کی گھڑیاں لینے پر ٹیکس نہیں ہے۔

حکومت کے معاشی اقدامات کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس حکومت نے کھانے پینے کی اشیا، سولرپینلز پر ٹیکس لگا دیا ہے، پاکستان ہر سال ساڑھے 3 ارب ڈالر کا کھانے کا تیل امپورٹ کرتا ہے، اور عمران حکومت نے تیل کے بیج پر ٹیکس لگا دیا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف سے مل کر عوام سے لڑ رہی ہے، حکومت جو کر رہی ہے میں اسے ظالمانہ اور مجرمانہ ٹیکس سمجھتا ہوں، نواز شریف کے دور میں خوردنی تیل 150 روپے کا ہوتا تھا۔

ن لیگی رہنما نے مزید کہا شکر ہے انھوں نے سانس لینے پر ٹیکس نہیں لگایا، صرف ایک سانس لینے اور دوسرا توشہ خانہ کی گھڑیوں پر ٹیکس نہیں ہے،موبائل لوڈ پر ٹیکس ڈبل کر دیا گیا، لال مرچ پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا، سب ٹیکس لگا کر پھر کہتے ہیں ہم نے اتنا ٹیکس نہیں لگایا، توشہ خانہ کی گھڑیاں وزیر اعظم لے جائے تو اس پر ٹیکس نہیں ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا اسٹیٹ بینک کا گورنر 5 سال کے لیے ہوگا اور ایکسٹینشن بھی 5 سال ہوگی، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک بھی گورنر لگائے گا، گورنر اسٹیٹ بینک کی مکمل اجارہ داری ہوگی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نہیں رہا بلکہ اسٹیٹ بینک آف آئی ایم ایف بنا دیا گیا، دنیا کے کسی ملک میں شاید ہی ایسا قانون ہو جو یہاں بنایا گیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا اسٹیٹ بنک اب حکومت کو قرض نہیں دے سکتا، حکومت نے آئی ایم ایف کی ایما پر اپنے ہاتھ خود باندھ دیے ہیں، پارلیمنٹ ان سے مشورے کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں کر سکتی، اسٹیٹ بینک جو سمری اور ریفرنس بھیجے گا وزارت خزانہ کو من و عن آگے بھیجنا ہوگا۔

انھوں نے کہا پاکستان کی تاریخ میں تو دور یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا، آپ اپنے قرضوں کے تحت آئی ایم ایف کی غلامی کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں