The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے تارکین وطن کے خلاف مقدمات عارضی طور پر روک دئیے

واشنگٹن: امریکی سرحد کے سیکیورٹی سربراہ کیون میک ایلینن نے کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے خلاف مقدمات کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کسٹمز اینڈ بورڈ پروٹیکشن کے کمشنر کیون میک ایلینن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن کے خلاف مقدموں کو گزشتہ ہفتے معطل کردیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ کے ایک حکم کے بعد یہ پیش رفت ہوئی جس میں انہوں نے تارکین وطن خاندانوں کو علیحدہ کرنے سے روکنے کی بات کی تھی۔

میک ایلینن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی زیرو برداشت کی پالیسی ابھی بھی نافذ العمل ہے، اگر امریکی حکام غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ایسے بچوں سے جنہیں بالغوں کے قید خانے میں نہیں رکھا جاسکتا، علیحدہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو پھر ان
کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت انصاف کو والدین سے بچوں کو علیحدہ کیے بغیر والدین پر مقدمہ چلانے کا طریقہ نکالنا ہوگا۔

واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈر نے کہا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے پاس میکسیکو سے آنے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھنے کے لیے جگہ نہیں ہے، ہم پالیسی نہیں بدل رہے ہیں صرف ہمارے وسائل ختم ہوگئے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہمیں ایک اچھے اور قابل عمل نظام کی ضرورت ہے جس میں جب کوئی غیرقانونی طور پر آئے تو اسے جانا پڑے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں