اٹلی اور فرانس کے درمیان مہاجرین کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ
The news is by your side.

Advertisement

اٹلی اور فرانس کے درمیان مہاجرین کے مسئلے پر کشیدگی میں اضافہ

روم : اٹلی کے وزیر داخلہ نے دھمکی دی ہے کہ پیرس حکومت مہاجرین کے مسئلے پرمعافی مانگے وگرنہ ایمنیئول مکرون اور اطالوی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات ملتوی کردی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کی انسانی حقوق کے لیے خدمات انجام دینے والی تنظیم ایس او ایس میڈیٹرینی کے بحری کو اطالوی بندر گاہ کر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ دینے پر فرانس اور اٹلی کے درمیان سفارتی کشیدگی میں‌ پھر اضافہ ہونے لگا۔

اٹلی کے وزیر داخلہ نے اطالوی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر معافی نہ مانگی توفرانسیسی صدر ایمینئول مکرون اور اطالوی وزیر اعظم کے مایبن 15 جون کو ہونے والی ملاقات منسوخ کردی جائے گی.

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مہاجرین کے بحری جہاز کو لنگر انداز کرنے کے معاملے کے بعد اطالوی وزیر اقتصادیات اور فرانسیسی ہم منصب کے درمیان گذشتہ روز ہونے والی ملاقات میں ملتوی ہوگئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی میں موجودہ حکومت عوامیت پسند ہے، جس نے جہاز میں حاملہ خواتین، اور سینکڑوں بچوں سمیت 629 افراد ہونے کے باوجود بحری جہاز کو لنگز انداز نہیں ہونے دیا تھا۔

فرانس کی امدامی تنظیم ایس او ایس کا کہنا تھا کہ مذکورہ تارکین وطن کو بحیرہ روم سے ریسکیو کیا تھا، لیکن اٹلی کے اجازت نہ دینے پر انہیں اسپین روانہ کیا گیا۔

یورپی نیوز ایجنسیوں کے مطابق اٹلی کی نئی حکومت کی جانب سے مہاجرین سے متعلق سخت رویہ اختیار کرنے پر فرانسیسی حکومت سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اطالوی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اطالوی حکومت کی جانب سے مہاجرین ملک میں پناہ نہ دینے پر فرانسیسی صدر تنقید نے موجودہ اطالوی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اٹلی حکومت کا فیصلہ انتہائی مایوس کن ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ فرانسیسی حکومت کی جانب سے اٹلی پر تنقید کیے جانے کے بعد اٹلی نے روم میں تعینات فرایسیسی سفیر کو طلب کرکے بیانات پر وضاحت مانگی ہے۔

اطالوی حکومت کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’رومی حکومت فرانسیسی صدر کے مذکورہ بیانات کو قابل قبول نہیں سمجھتی‘ ایسے بیانات فرانس اور اٹلی کے درمیان ڈراڑ ڈال دیں گے۔

اطالوی وزیر داخلہ ماتیو سالوینی نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے دیئے گئے بیانات کے جواب میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’پیرس حکومت مہاجرین کو کسی اور ملک میں بھیجنے کے بجائے فرانس میں پناہ دے اور سرکاری سطح پر معافی مانگے‘۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے اطالوی حکومت کے سخت رویے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’فرانس مہاجرین کے باعث اٹلی پر آنے والے دباؤ سے آگاہ ہے اور ہماری حکومت اس حوالے تعاون کرنے کے لیے بھی تیار ہے‘۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں