کولمبو(21 فروری 2026): پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے اہم ترین گروپ میچ میں نمیبیا کے خلاف بابر اعظم کو بیٹنگ کے لیے نہ بھیجنے کی وجہ بیان کر دی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے انکشاف کیا کہ میگا ایونٹ کے پاور پلے میں بابر اعظم کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم ہونا اس فیصلے کی بنیادی وجہ بنا۔
بابر اعظم، جنہوں نے اب تک تین اننگز میں 115.78 کے معمولی اسٹرائیک ریٹ سے صرف 66 رنز بنائے ہیں، بھارت کے خلاف گزشتہ اتوار کو ہونے والے میچ میں سات گیندوں پر صرف 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے۔ اس ناقص کارکردگی اور تنقید کے باوجود وہ نمیبیا کے خلاف اہم میچ میں ٹیم کا حصہ رہنے میں کامیاب رہے۔
آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز سے نمبر 4 پر بیٹنگ کرنے والے دائیں ہاتھ کے بلے باز کو نمیبیا کے خلاف میچ میں بیٹنگ کا موقع نہیں مل سکا تھا، ان کی جگہ نوجوان بیٹر خواجہ نافع اور آل راؤنڈر شاداب خان کو بھیجا گیا۔ بیٹنگ میں اس تنزلی نے شائقینِ کرکٹ کو حیران کر دیا اور ٹیم میں ان کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے۔
یہ پڑھیں: سلمان آغا اور مائیک ہیسن میں گرما گرمی، کس بات پر بحث ہوئی؟
ہفتہ کو نیوزی لینڈ کے خلاف سپر ایٹ مرحلے کے پہلے میچ سے قبل میڈیا بریفنگ کے دوران جب مائیک ہیسن سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ نمیبیا کے خلاف جب ٹیم 12.1 اوورز میں 107 رنز بنا چکی تھی اور صاحبزادہ فرحان کریز پر موجود تھے، تو وہ صورتحال بابر اعظم کے لیے موزوں نہیں تھی۔
ہیسن نے میڈیا کو بتایا کہ اس مرحلے پر بابر اعظم بیٹنگ کے لیے بہترین انتخاب نہیں تھے کیونکہ ٹیم کے پاس ایسے دیگر کھلاڑی موجود تھے جو آخری اوورز میں زیادہ تیزی سے رنز بنا سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بابر خود بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی مہارت ایک خاص انداز کی ہے اور بعض اوقات دوسرے کھلاڑی ان سے زیادہ مؤثر طریقے سے فنشنگ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہیڈ کوچ نے بابر اعظم کی بیٹنگ پوزیشن کے حوالے سے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایشیا کپ 2025 کی ناکامی کے بعد بابر کو ٹیم میں ایک مخصوص مقصد کے لیے واپس لایا گیا تھا، جو کہ مڈل اوورز میں اننگز کو سنبھالنا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ورلڈ کپ کے پاور پلے میں بابر کا اسٹرائیک ریٹ 100 سے بھی کم ہے، اور ٹیم کو اوپننگ میں اس طرح کے کھیل کی ضرورت نہیں ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


