اتوار, اپریل 12, 2026
اشتہار

مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے، مائیک ہکابی

اشتہار

حیرت انگیز

واشنگٹن (21 فروری 2026): اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے کیوں کہ یہ زمین خدا نے اسرائیلیوں کو دی ہے۔

قدامت پسند امریکی تجزیہ کار ٹَکر کارلسن کے ساتھ جمعہ کے روز نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں مائیک ہکابی سے جب اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی سرحدوں کی بنیاد بائبل میں بیان کردہ حدود پر ہے، یہ زمین خدا نے اسرائیلیوں کو دی ہے، اسرائیل کا دریائے نیل سے فرات تک قبضہ کرنا ٹھیک ہوگا۔

مائیک ہکابی نے کہا اگر اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لے تو انھیں اس پر اعتراض نہیں ہوگا، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یہودی قوم کا اس سرزمین پر حق قرار دیتے ہیں۔

کارلسن نے ہکابی سے کہا کہ بائبل کی ایک آیت کے مطابق یہ زمین حضرت ابراہیم کی اولاد سے وعدہ کی گئی تھی، جس میں عراق کے دریائے فرات اور مصر کے دریائے نیل کے درمیان کا علاقہ شامل ہے۔ اتنا وسیع علاقہ آج کے لبنان، شام، اردن اور سعودی عرب کے بعض حصوں پر مشتمل ہوگا۔ گزشتہ برس ٹرمپ کے مقرر کردہ سفیر ہکابی نے جواب میں کہا ’’اگر وہ سب لے لیں تو بھی ٹھیک ہوگا۔‘‘


گفتگو کے دوران اس بیان پر ٹکر کارلسن بھی حیران ہوئے، انھوں نے ہکابی سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی اسرائیل کی پورے خطے تک توسیع کی حمایت کرتے ہیں۔ سفیر نے جواب دیا ’’وہ اسے اپنے قبضے میں لینا نہیں چاہتے۔ وہ اسے لینے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔‘‘


امریکی سفیر مائیک ہکابی خود کو عیسائی صہیونی قرار دیتے ہیں اور اسرائیل کے مضبوط حامی ہیں، انھوں نے بعد میں اپنے بیان سے کچھ پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ یہ ’’کسی حد تک مبالغہ آمیز بات‘‘ تھی۔ تاہم انھوں نے اپنی مذہبی تشریح کی بنیاد پر اسرائیلی توسیع پسندی کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا۔ ہکابی نے کہا ’’اگر ان تمام مقامات سے اسرائیل پر حملہ ہوتا ہے اور وہ جنگ جیت جاتا ہے، اور وہ وہ زمین لے لیتا ہے، تو ٹھیک ہے، وہ ایک الگ بحث ہوگی۔‘‘

الجزیرہ نے جب امریکی وزارت خارجہ سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ آیا وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اسرائیل کی توسیع کے حق کے بارے میں ہکابی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں، تو اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایران کے خلاف محدود امریکی فوجی کارروائی


واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ َٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کیا آپ ایران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے محدود پیمانے پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

اس سوال پر صدر ٹرمپ نے کچھ لمحوں کا وقفہ لیا اور کہا ’میرے خیال میں، میں یہ کہہ سکتا ہوں کے ایسا سوچ رہا ہوں۔‘ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے خبر دی تھی کہ ٹرمپ ایران کے خلاف ’محدود فوجی حملہ‘ کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

ایران میں ہلاکتوں پر ٹرمپ کا دعویٰ


صدر ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں، انھوں نے کہا ایرانی عوام اپنے لیڈروں سے بہت مختلف ہیں۔ یہ ایک بہت افسوس ناک صورت حال ہے۔ اس مختصر عرصے میں بتیس ہزار لوگ مارے گئے۔ انھوں نے کہا ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے، وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت پہلے ہی حالیہ دہشت گردی کے آپریشن کے تمام 3 ہزار متاثرین کی ایک جامع فہرست شائع کر چکے ہیں، جس میں دو سیکیورٹی اہلکار بھی جان سے گئے۔ اگر کسی کو ہمارے ڈیٹا کی درستگی پر اختلاف ہے تو براہ کرم ثبوت شیئر کریں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں