The news is by your side.

Advertisement

سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن اور نامور باکسر مائیک ٹائسن روپڑے

نیو یارک : سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن مائک ٹائسن نے کہا ہے کہ باکسنگ چھوڑنے کے بعد خود کو بہت تنہا محسوس کرتا ہوں، میں اب زندگی عاجزی اور انکساری سے گزارنے کی کوشش کررہا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے شوگر رے لیونارڈ کے پوڈ کاسٹ کے حالیہ پروگرام “ہاٹ باکس ان” میں کیا، پروگرام میں اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے مائیک ٹائسن رو پڑے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن کا کہنا تھا کہ “میں رنگ کے اندر لڑائی کا فن جانتا ہوں مجھے جنگ کرنا آتی ہے کیونکہ میں نے اس کے بارے میں پڑھا ہے۔

 53سالہ مائیک ٹائسن کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہی خوف ہے اسی وجہ سے جب میں رنگ میں ہوتا تھا تو لوگ مجھ سے ڈرتے تھے،اب وہ دن گزر گئے ہیں، اب میں اکیلا ہوں اور عاجزی انکساری کے تحت زندگی گزاررہا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں رو رہا ہوں کیوں کہ میں اب وہ شخص نہیں رہا اور مجھے اس دور کی یاد آتی ہے۔

واضح رہے کہ مائیک ٹائسن کو سال1997میں ایک مقابلے ٓکے دوران اپنے حریف ایونڈر ہولی فیلڈ کے دائیں کان کو دانتوں سے کاٹنے کے جرم میں باکسنگ کے شعبے میں نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مائیک ٹائسن اپنے دور کے ایک جنونی باکسر تھے انہوں نے 20 سال کی عمر میں ورلڈ باکسنگ کونسل، ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل باکسنگ فیڈریشن کا ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اپنے پورے کیریئر کے دوران انہوں نے 58 مقابلوں میں حصہ لیا۔ ان میں سے 50میں وہ کامیاب رہے جبکہ 6 میں انہیں شکست ہوئی اور دو کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، انہوں نے44مقابلوں میں اپنے حریفوں کو ناک آؤٹ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں