The news is by your side.

Advertisement

دودھ کی قیمت 100روپے لیٹر تک جا پہنچی

 کراچی :عدالتی حکم پرعمل درآمد کے بعد شہر بھر میں دودھ اور دہی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور دودھ کی قیمت 100روپے لیٹر تک جا پہنچی، عوام شدید مشکلات کا شکار ہے اور قیمتوں کے فوری تعین کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عدالتی حکم پرعمل درآمد کرتے کرتے دودھ اور دہی کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی، دودھ کی قیمت میں فارمرز نے بیس روپے تک کا اضافہ کردیا۔

ریٹیل سطح پر دودھ کی قیمت سوروپے لیٹر جبکہ دہی کی قیمت میں ایک سو تیس روپے فی کلو ہوگئی۔

عوام کا کہنا ہےکہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے، قیمتوں کا فوری تعین کیا جائے۔

ڈیری فارمرز کا کہنا تھا کہ کراچی میں یومیہ دودھ مقدار کم ہوکر پچیس لاکھ لیٹر رہ گئی ہے جبکہ ریٹیلز کا کہنا ہے کہ دودھ کی قیمت میں اضافہ ناگزیر ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے بھینسوں کو زائد دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والے آر وی ایس ٹی نامی ٹیکوں کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کمپنیوں کا تمام اسٹاک فوری قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ بھینسوں کو لگنے والے ٹیکوں سے ملنے والا دودھ کینسر کا باعث ہے، یہ ہمارے بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ عدالت کوئی رعایت نہیں دے گی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد دودھ کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ڈیری فارمرز نے عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔


مزید پڑھیں :  کراچی میں دودھ کی قیمت 90 روپے فی لیٹر کرنے کا فیصلہ


گذشتہ روز دودھ کی موجودہ قیمتوں کے خلاف ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے اپنا دھرنا کمشنر کی یقین دہانی پر رات گئے ختم کردیا تھا جبکہ کمشنر نے دودھ کی نئی قیمت 90 روپے کرنے اور اس کا نوٹیفکیشن جلد جاری کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

اس سے قبل کراچی کے ملک ریٹیلرز نے دودھ کی سرکاری قیمت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دودھ کی سرکاری قیمت بہتر نہ کی گئی تو خود فیصلہ کریں گے۔ حکومت نے مطالبات پورے نہ کیے تو دکانیں بند کریں گے۔

ڈیری فارمرز کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ کراچی میں یومیہ دودھ کی مقداراور کھپت 45 لاکھ لیٹر ہے، دودھ کی مقدار بڑھانے سے متعلق انجکشن پر پابندی عائد ہونے کے بعد کراچی میں دودھ کی مقدار کم ہو کر 25 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں