(9 مارچ 2026): دودھ انسانی صحت کے لیے ضروری ہے اگر اصلی ہو تو آپ کے گھر جو دودھ آتا ہے وہ اصلی ہے یا نقلی آسان طریقوں سے جانچیے۔
دودھ ہماری روزمرہ کی خوراک میں استعمال ہونے والا لازمی جزو ہے۔ تاہم جس طرح کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ معمول ہو گئی ہے۔ اسی طرح دودھ میں بھی ملاوٹ کی جا رہی ہے۔
وہ زمانے گئے، جب دودھ میں گوالا صرف پانی ملاتا تھا۔ اب تو کئی کیمیکل جو انسانی صحت کے لیے مضر ہیں، انہیں دودھ میں شامل کر کے اس کو فروخت کیا جاتا ہے۔
دودھ کو گاڑھا، جھاگ دار اور کریم سے بھرپور ظاہر کرنے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ پاؤڈر، اسٹارچ، یوریا، ڈالڈا گھی سمیت بہت ساری چیزیں ملائی جاتی ہیں۔
لیکن پریشان نہ ہوں، ہم آپ کو چند ایسے آسان طریقے بتا رہے ہیں جن کی مدد سے آپ گھر میں چند سیکنڈ میں جان سکتے ہیں کہ آپ کو ملنے والا دودھ خالص ہے یا اس میں کوئی مضر صحت کیمیکل ملایا گیا ہے۔
یوریا ٹیسٹ:
بعض افراد دودھ کی مقدار بڑھانے کے لیے اس میں پانی اور یوریا ملا دیتے ہیں، جس سے دودھ گاڑھا اور زیادہ سفید دکھائی دیتا ہے۔
اگر دودھ یا دہی کا ذائقہ غیر معمولی لگے تو آدھا چائے کا چمچ دودھ میں آدھا چائے کا چمچ سویا بین پاؤڈر یا دال کا پاؤڈر ملا کر اچھی طرح مکس کریں۔ پانچ منٹ بعد اس میں سرخ لٹمس پیپر ڈالیں۔ اگر لٹمس پیپر نیلا ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں یوریا موجود ہے۔
ڈٹرجنٹ ٹیسٹ:
بعض لوگ دودھ کو جھاگ دار اور گاڑھا دکھانے کے لیے اس میں صابن ملا دیتے ہیں۔ ایسا دودھ پینے سے معدے کے مسائل اور حتیٰ کہ کینسر جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
جانچ کے لیے ایک چھوٹی بوتل میں 5 سے 10 ملی لیٹر دودھ اور اتنی ہی مقدار میں پانی ڈال کر اچھی طرح ہلائیں۔ خالص دودھ میں معمولی جھاگ بنتا ہے جو فوراً ختم ہو جاتا ہے، جبکہ صابن ملا دودھ زیادہ جھاگ بناتا ہے جو دیر تک برقرار رہتا ہے۔
ڈالڈا ٹیسٹ:
بعض اوقات کچے دودھ میں مکھن جیسی گانٹھیں نظر آتی ہیں، جس سے زیادہ چکنائی کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن اگر دودھ سے مکھن نکال کر اس میں ڈالڈا ملایا گیا ہو تو بھی یہی شکل بنتی ہے۔
اس کی جانچ کے لیے ایک ٹیسٹ ٹیوب یا چھوٹی بوتل میں 5 ملی لیٹر دودھ لیں، اس میں 2 سے 3 قطرے ہائیڈروکلورک ایسڈ اور ایک چمچ چینی شامل کریں۔ پانچ منٹ بعد اگر دودھ سرخ ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں ڈالڈا ملا ہوا ہے۔
آٹا ٹیسٹ:
کچھ لوگ دودھ کو گاڑھا ظاہر کرنے کے لیے اس میں چاول کا آٹا یا اسٹارچ ملا دیتے ہیں، جس سے نظامِ ہضم متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی جانچ کے لیے ایک چھوٹے گلاس میں دودھ گرم کریں اور اس میں آیوڈین کے دو سے تین قطرے ڈالیں۔
اگر دودھ نیلا ہو جائے تو اس میں اسٹارچ شامل ہے، جبکہ خالص دودھ کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔
پانی کا ٹیسٹ:
گاڑھے دودھ میں تھوڑا سا پانی ملایا جائے تو اکثر پتہ نہیں چلتا، لیکن زیادہ پانی ملانے سے غذائیت کم ہو جاتی ہے اور دودھ جلد خراب ہو سکتا ہے۔
اس کی جانچ کے لیے ایک صاف اسٹیل کی پلیٹ کو ہلکا سا جھکا کر رکھیں اور اس پر دودھ کا ایک قطرہ ڈالیں۔ خالص دودھ آہستہ آہستہ بہتا ہے، جبکہ پانی ملا دودھ تیزی سے نیچے کی طرف بہہ جاتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


