The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں دودھ کی قلت کا خدشہ

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں دودھ کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا جبکہ ریٹیلرز نے پرانی قیمت پر دودھ کی فروخت کو ناممکن قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے بھینسوں کو دودھ بڑھانے کے لیے لگائے جانے والے انجکشنز پر پابندی کے بعد ڈیری فارمرز من مانیوں پر اتر آئے۔

بھینس کالونی میں ڈیری فارمرز نے دودھ کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا جس کے بعد مقامی ریٹیلرز کو پرانی قیمت پر دودھ فروخت کرنا مشکل ہوگیا۔

صدر ملک ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ معاملے کے فوری نوٹس کے لیے کمشنر کراچی کو خط لکھ دیا ہے۔ نوٹس نہ لیا تو شہر میں دودھ کی فروخت بند ہوجائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پابندی کے بعد دودھ کی لاگت میں 30 سے 40 فیصد کمی ہوگئی۔ ڈیری فارمرز نے پیداواری لاگت کو جواز بنا کر نرخ بڑھا دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ڈیری فارمرز سے دودھ کی قیمتوں میں کمی کروائے۔ قیمتیں کم نہ ہوئیں تو 2، 3 دن میں دکانیں بند ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ نے بھینسوں کو زائد دودھ کے حصول کے لیے لگائے جانے والے آر وی ایس ٹی نامی ٹیکوں کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے کمپنیوں کا تمام اسٹاک فوری قبضے میں لینے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ بھینسوں کو لگنے والے ٹیکوں سے ملنے والا دودھ کینسر کا باعث ہے۔ یہ ہمارے بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ عدالت کوئی رعایت نہیں دے گی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد دودھ کی قیمتیں بڑھانے کے لیے ڈیری فارمرز نے عدالت سے رجوع کرلیا تھا۔

ڈیری فارمرز کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں یومیہ دودھ کی مقداراور کھپت 45 لاکھ لیٹر ہے۔ دودھ کی مقدار بڑھانے سے متعلق انجکشن پر پابندی عائد ہونے کے بعد کراچی میں دودھ کی مقدار کم ہو کر 25 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔

درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت، کمشنر کراچی اور دیگر فریقین سے 6 فروری کو جواب طلب کرلیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں