site
stats
حیرت انگیز

کہکشاں کے نظروں سے اوجھل ہونے کا خدشہ

حال ہی میں جاری کیے جانے والے ایک عالمی نقشہ کے مطابق دنیا میں روشنیوں کا طوفان آسمان کی خوبصورت کہکشاں کے نظارے کو ہماری نگاہوں سے اوجھل کردے گا۔

کہکشاں یا ’ملکی وے‘ کا نظارہ دنیا کے بعض حصوں میں کبھی کبھی دکھائی دیتا ہے اور یہ نہایت حسین ںظارہ ہوتا ہے۔ یہ نظارہ خلا نوردوں کے شوق اور مصوروں، شاعروں اور موسیقاروں کے فن کو مہمیز کرتا ہے۔ لیکن حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہم اس شاندار نظارے سے محروم ہوجائیں گے۔

mw-3

تحقیق کے مطابق 60 فیصد یورپی، 80 فیصد شمالی امریکی جبکہ سنگاپور، کویت اور مالٹا کی تمام آبادی مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے اس نظارے کو نہیں دیکھ سکتی۔

تحقیق کے سربراہ کے مطابق یہ ہماری دنیا کے ایک ثقافتی خزانے کی محرومی ہوگی۔

mw-5

ایک اور محقق جان ملٹن کے مطابق ایک وسیع ’سڑک‘ کا نظارہ جس کی گرد سونے جیسی ہے اور جس کا فرش ستاروں کا ہے، محض مصنوعی روشنیوں کے باعث ہم سے چھن جائے گا۔

ان کے مطابق مصنوعی روشنیوں کے باعث ہماری زمین کے گرد ایک دھند لپٹ چکی ہے جس کے باعث ہم کہکشاں اور چھوٹے ستاروں کو دیکھنے سے محروم ہوگئے ہیں۔

mw-4

ایک خلا نورد کو خلا سے زمین ایسی نظر آتی ہے

محققین کے مطابق ہماری سڑکوں کے کنارے لگی اسٹریٹ لائٹس، ہمارے گھروں اور عمارتوں کی روشنیاں آسمان کی طرف جا کر واپس پلٹتی ہیں جس کے بعد یہ فضا میں موجود ذروں اور پانی کے قطروں سے ٹکراتی ہے۔ ان کے ساتھ مل کر یہ روشنیاں ہمارے سروں پر روشنی کی تہہ سی بنا دیتی ہیں جس کی وجہ سے حقیقی آسمان ہم سے چھپ سا جاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ رات کا آسمان ہمارے قدرتی ثقافتی ورثہ ہے اور یہ ہم سے چھن رہا ہے۔

mw-2

دنیا میں مصنوعی روشنیوں کا بڑھتا استعمال پہلے ہی باعث تشویش ہے۔ اس سے قبل بھی ایک تحقیق کی گئی تھی جس سے پتہ چلا کہ مصنوعی روشنیاں پرندوں کی تولیدی صحت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں جس سے ان کی آبادی میں کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top