سینیٹ انتخابات میں اراکین کی خرید و فروخت حرام قرار senate election
The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ انتخابات میں اراکین کی خرید و فروخت حرام قرار

لاہور: مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے مبنی ملی یکجہتی کونسل نے سینیٹ انتخابات میں اراکین کی خرید و فروخت کو شرعاً حرام قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق تین مارچ کو سینیٹ کی 52 نشتوں پر نمائندے منتخب کرنے کے لیے چاروں صوبائی اور قومی اسمبلی میں ووٹنگ کا عمل منعقد کیا گیا جس میں اراکین اسمبلی نے حق رائے دہی استعمال کیا۔

سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدواروں نے پنجاب سے 11، اسلام آباد سے 2 اور خیبرپختونخواہ سے 2 نشتیں حاصل کر کے واضح برتری حاصل کی علاوہ ازیں پیپلزپارٹی دوڑ میں 12 نشتیں اپنے نام کرکے دوسرے نمبر پر رہی۔

سینیٹ انتخابات میں اراکین کی خرید و فروخت کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کا انکشاف سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا کہ امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے بھاری رقم کے عوض اراکین اسمبلی کو کروڑوں روپے کی پیش کش کی گئی۔

مزید پڑھیں:  سپریم کورٹ‌ نے چار نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹیفکیشن روک دیے

تحریک انصاف کےچیئرمین نے خیبرپختونخواہ اسمبلی میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے رابطہ کیا اور مذکورہ اراکین کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کیا علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار نےبھی پیپلزپارٹی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 15 اراکین سے ووٹ لینے کے لیے بھاری رقم ادا کی۔

ملی یکجہتی کونسل میں شامل 16 مذہبی و سیاسی جماعتوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا، صاحبزادہ ابوالخیر کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں اراکین کی خرید و فروخت شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ‘ عدالت کی الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سے جواب طلبی

اسے بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات: ن لیگ کے حمایت یافتہ 15، پیپلزپارٹی کے 12، پی ٹی آئی کے 6 امیدوار کامیاب

اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اراکین کی خرید و فروخت کا نوٹس لے اور ہارس ٹریڈنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتخابات میں نمائندوں کو کامیاب کروانے کے لیے خرید و فروخت کوئی معمولی کام نہیں بلکہ جرم ہے، اس کام کے بعد اب آئندہ آنے والے الیکشن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن خرید و فروخت کا نوٹس نہیں لیتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی اس کام میں شریک جرم ہے، اگر ملک میں حقیقی جمہوریت نافذ کرنی ہے تو ایسے اقدامات کو فی الفور روکنا ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں