The news is by your side.

Advertisement

ایتھوپیا میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار، نقل مکانی پر مجبور

افریقی ملک ایتھوپیا میں خانہ جنگی جاری ہے اور خوراک کی ترسیل رکنے کے باعث وہاں کے 20 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق ایتھوپیا میں حکومتی فورسز اور نسلی اقلیتی فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے دوران شمالی ایتھوپیا میں 20 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔

عالمی خوراک پروگرام نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے دسمبر کے وسط سے متاثرہ علاقوں میں غذائی سامان پہنچانے سے قاصر ہے۔

یو این او کے ذیلی ادارے کی جاری کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تِگرے خطے میں لگ بھگ 40 فیصد آبادی غذا کے سنگین نوعیت کے عدم تحفظ کا شکار ہورہی ہے، اندرونی لڑائی کے باعث یہاں کے بہت سے خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے  مطابق غذائی قلت کے باعث کئی لوگ اپنی یومیہ خوراک کی مقدار کو بھی کم کرنے پر مجبور ہیں، حاملہ خواتین اور بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی خواتین بھی معقول غذا نہ ملنے کے باعث کمزوری سے دوچار ہیں جس کے نتیجے میں پیدائش کے وقت بچوں کا وزن کم ہوتا ہے اور ان کی نشوونما رک جاتی ہے۔

رپورٹ کے مندرجات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تگرے اور تنازعات کا شکار دیگر علاقوں میں 90 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی مدد درکار ہے۔

واضح رہے کہ ایتھوپیا میں خانہ جنگی 2020 سے جاری ہے اور تنازعے کے ختم ہونے کے تاحال کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں