اسلام آباد (23 فروری 2026): حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے جائزہ مذاکرات کے لیے تیاریاں جاری ہیں، ایسے میں حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ ٹیکس شارٹ فال کے باوجود منی بجٹ کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر شارٹ فال پر آئی ایم ایف کا دباؤ آیا تو پھر منی بجٹ کا فیصلہ مذاکرات کے بعد کیا جائے گا، مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کو 330 ارب روپے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا۔
ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتوں کے بروقت تعین کا عمل جاری رکھا جائے گا، سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی ماہانہ، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس اور بنیادی ٹیرف کا تعین بروقت کیا جا رہا ہے، گیس کی قیمتوں کا تعین بھی مقررہ وقت کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف وفد مذاکرات کے لیے 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا، وفد پہلے کراچی میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مذاکرات کرے گا، اس کے بعد باضابطہ مذاکرات 2 مارچ سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، توسیعی فنڈ فیسلیٹی اور کلائمٹ فنانسنگ جائزے کے لیے ایک ہی وقت مذاکرات ہوں گے۔
تیل کمپنیاں غیر قانونی طور پٹرولیم مصنوعات میں کیمیکل ڈال کر فروخت کر رہی ہیں، ذرائع کا انکشاف
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اگلی اقساط میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز ملیں گے۔
توسیعی فنڈ فیسلیٹی پروگرام کے تحت تیسرے جائزے اور کلائمٹ فناننسنگ پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں، مذاکرات کی کامیابی پر پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسلیٹی پروگرام کی چوتھی قسط اور کلائمٹ فناننسنگ پروگرام کی دوسری قسط کی مد میں فنڈز ملیں گے۔
ان دونوں پروگراموں میں اب تک پاکستان کو آئی ایم ایف سے 3 ارب 30 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں، اس وقت پاکستان بیک وقت آئی ایم ایف کے ساتھ دو قرض پروگراموں میں ہے، توسیعی فنڈ فیسلیٹی پروگرام 7 ارب ڈالرز جب کہ کلائمٹ فناننسنگ ایک ارب 40 کروڑ ڈالرز پروگرام ہے۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


