The news is by your side.

Advertisement

نیب وزیر اعظم کے خلاف کیس واپس لے: وزیر اطلاعات کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف ہیلی کاپٹر کیس واپس لینا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا ’نیب نے سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ اور منتخب وزیرِ اعظم کو چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے، ہیلی کاپٹر کیس میں 27 لاکھ کا معاملہ ہے اور نیب اس کو لے کر بیٹھ گیا ہے۔

نیب ترامیم کا مسودہ زیرِ غور ہے، عدالتی نظام میں بہتری کی بہت ضرورت ہے۔

فواد چوہدری

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ نیب وزیرِ اعظم سے معافی مانگے، وزیرِ اعظم کے خلاف کیس توازن کے لیے بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ’ایک نجی چینل کی علیمہ خان پر اسٹوری صحافتی بد دیانتی ہے، علیمہ خان اور فیصل واوڈا نے اپنی جائیدادیں ڈکلیئر کی ہوئی تھیں۔‘

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ احتساب کڑا ہونا چاہیے، سب کا ہونا چاہیے، اور سب کے لیے ہونا چاہیے، ہم کرپشن سے پاک پاکستان چاہتے ہیں، احتساب ہمارے منشور کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیب نے کرپشن کے مقدمات پر ہاتھ ڈالا تو حکومت نے انھیں سراہا، پی ٹی آئی حکومت پر اب تک ایک کرپشن کا اسکینڈل نہیں آیا، وزیر اعظم عمران خان کرپشن کریں گے نہ کرنے دیں گے، عمران خان ایک مشن لے کر سیاست اور حکومت میں آئے ہیں۔

فواد چوہدری نے مزید کہا ’وزیر اعظم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، 3 بار پیش ہو چکے ہیں، ان کے خلاف مستند کیس بنا ہو تو بات بنتی ہے، موجودہ کیس میں جان نہیں ہے، منصوبوں کے افتتاح کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیا گیا۔‘

آصف زرداری کے بعد اگلی باری خورشید شاہ کی ہے، اب سکھر پیکج کی باتیں آئیں گی، چوہدری نثار نے سکھر میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بات کی تھی۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ نیب ترامیم کا مسودہ زیرِ غور ہے، اپوزیشن کے ساتھ فروغ نسیم کی 7 میٹنگز ہوئی ہیں، اپوزیشن کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں، وہ زرداری اور نواز شریف کے لیے ریلیف مانگ رہی ہے، تحریک انصاف کی حکومت ان کو ریلیف نہیں دے سکتی، اگر ان کو ریلیف دیں گے تو ہم اپنے ووٹرز سے غداری کریں گے، دونوں کرپشن میں گھرے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا ’پی اے سی چیئرمین شپ پر میری اور شیخ رشید کی رائے ایک تھی، وزیرِ اعظم بھی ہمارے مؤقف کے حامی تھے، لیکن دیگر رہنماؤ ں نے کہا کہ چیئرمین شپ نہ دی تو پارلیمنٹ نہیں چلے گی، سیاسی ایشوز کو عدالتوں میں نہیں جانا چاہیے، عدالتی نظام میں بہتری کی بہت ضرورت ہے، جس دن وزیر اعظم بات کرنے سے روکیں گے تو رک جاؤں گا۔‘

فواد چوہدری نے کہا کہ فرخ سلیم کے معاملے میں مجھ سے غلطی ہوئی، معیشت اور توانائی امور پر بہ طور حکومتی ترجمان ان کا نوٹیفکیشن جاری کرنے لگے تو پتا چلا پابندی عائد ہے، فرخ سلیم میٹنگز میں ہوتے تھے، انھیں میڈیا پر تنقید نہیں کرنی چاہیے تھی، حکومت میں ہوتے ہوئے حکومت پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا ’ آصف زرداری کے بعد اگلی باری خورشید شاہ کی ہے، اب سکھر پیکج کی باتیں آئیں گی، چوہدری نثار نے سکھر میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بات کی تھی، مجھے لگتا ہے خورشید شاہ گھبرائے ہوئے ہیں، وہ اداروں کو تباہ کرنے والے ولن ہیں، انھوں نے ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی پر ہزاروں ایسے لوگ بھرتی کیے جو کبھی کام پر نہیں گئے اور تنخواہ لیتے رہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی کا کوئی طوفان نہیں ہے، مہنگائی میں صرف 0.4 فی صد اضافہ ہوا ہے، تحریک انصاف کی حکومت منی بجٹ لے کر آ رہی ہے، کم ترین تنخواہ والے کے لیے بھی مہنگائی میں 0.4 فی صد اضافہ ہوا ہے، دوا کی قیمت ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے بڑھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں