18 ویں ترمیم کی وجہ سے تعلیم اور صحت کا معیار گرا ہے: وفاقی وزیرِ اطلاعات -
The news is by your side.

Advertisement

18 ویں ترمیم کی وجہ سے تعلیم اور صحت کا معیار گرا ہے: وفاقی وزیرِ اطلاعات

لاہور: وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے تعلیم اور صحت کا معیار گرا ہے، اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنھیں بہتر بنایا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وہ اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ زرداری صاحب 18 ویں ترمیم کو سیاسی ایشو بنا رہے ہیں، حالاں کہ اتفاق کے بغیر اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی۔

وزیرِ اعظم عمران خان آئندہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

فواد چوہدری وفاقی وزیر اطلاعات

فواد چوہدری نے کہا ’18 ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات ملنا اچھی بات ہے، تاہم اب کئی اختیارات ضلعی اور تحصیل کی سطح پر بھی جانے چاہئیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم عمران خان آئندہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے، جتنی ذمہ داری حکومت کی ہے اتنی ہی اپوزیشن کی بھی ہے، لیکن اپوزیشن طے کر کے آتی ہے کہ پارلیمنٹ کا بزنس نہیں چلنے دینا، پارلیمنٹ میں کسی معاملے کو بحث سے نہیں روکا جا سکتا۔

تحریکِ لبیک ایشو

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ معاہدے ہو جاتے ہیں لیکن پھر ٹوٹ بھی جاتے ہیں، تحریکِ لبیک والوں سے بھی بات چیت ہوئی تھی، اگر یہ بات چیت کام یاب ہو جاتی تو گرفتاریوں کی نوبت نہ آتی، آئین و قانون سے خود بالا تر سمجھنے والوں کے خلاف قانون ضرور حرکت میں آئے گا۔

فواد چوہدری نے کہا ’سوسائٹی میں بغاوت نہیں چلتی، حکومت نے تمام فیصلے سوسائٹی کے مفاد میں کیے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اداروں کے خلاف ایسی بات نہیں کی گئی، ہم نے کبھی آئین توڑنے یا پارلیمنٹ پر حملوں کی حمایت نہیں کی۔‘

پی اے سی معاملہ

فواد چوہدری نے کہا کہ کمیٹیاں نہ بننے کے ذمہ دار ن لیگ والے ہیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے ن لیگ کا مؤقف غیر اخلاقی ہے، ن لیگ کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مطالبے سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔

نیب کے معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، نیب میں ہم نے تو ایک چپڑاسی بھی بھرتی نہیں کرایا۔

وزیرِ اطلاعات

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے منصوبوں کو آڈٹ شہباز شریف کیسے کر سکتے ہیں؟ جب ہماری حکومت ختم ہوگی تو ہمارے منصوبوں کا آڈٹ کوئی اور کر لے، تاہم اب آئندہ اجلاس تک پرویز خٹک کمیٹیوں کا معاملہ حل کر لیں گے۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا ’خیبر پختونخوا کا قانون دیگر حصوں سے مختلف ہے، کے پی اسمبلی کا اسپیکر پی اے سی کا چیئرمین ہوتا ہے، یہ قانون 30 سال سے ہے، اپوزیشن کو کے پی اسمبلی میں قانون سازی پر مسئلہ ہے تو آ کر بات کر لیں۔‘

قومی احتساب بیورو

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے نیب پر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کیا، نیب کے معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، نیب میں ہم نے تو ایک چپڑاسی بھی بھرتی نہیں کرایا، نیب کی وجہ سے ہمارے وزیر بابر اعوان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

ان کا کہنا تھا ’نیب نے پی ٹی آئی پر ہاتھ ہلکا نہیں رکھا، پی ٹی آئی رہنما نیب کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، زلفی بخاری 6 سے 7 پیشیاں بھگت چکے ہیں، کسی وزیر یا مشیر کے خلاف ریفرنس فائل ہوگا تو وہ استعفیٰ دے گا، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نیب کی انکوائریز بیلنسنگ ایکٹ ہیں۔‘

آئی جی اسلام آباد معاملے پر میری نظرمیں اعظم سواتی درست ہیں۔

فواد چوہدری

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ سیاسی شور شرابے پر نیب دوسروں کے خلاف انکوائری شروع نہیں کرتی، اپوزیشن ترمیم کے ذریعے نیب کو غیر مؤثر کرنا چاہتی ہے، نیب کے دانت توڑنا چاہتی ہے، تاہم نیب کے لیے اپوزیشن ترامیم کی تجویز دے گی تو ان پر غور کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا ’نیب کی کرپٹ افراد کو سزا دلانے کی شرح بہت کم ہے، ملائیشیا میں ہر 100 میں سے 90 کرپٹ افراد جیل جاتے ہیں، ہم ترمیم کے ذریعے نیب کے اختیارات بڑھانا چاہتے ہیں، جسٹس (ر) جاوید اقبال کے آنے سے نیب میں بہتری آئی ہے۔‘

آصف زرداری، اعظم سواتی اور ڈالر

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ آصف زرداری اندرون سندھ کی چھوٹی سی جماعت کے سربراہ ہیں، نواز شریف پر 300 ارب روپے کا الزام تھا، جس پر استعفے کا مطالبہ کیا گیا، خواجہ آصف پر دبئی میں 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کا الزام تھا۔

فواد چوہدری نے کہا ’اعظم سواتی والا معاملہ 2 خاندانوں میں جھگڑا تھا جسے حل کر لیا گیا، لیکن بیوروکریسی تعاون نہیں کرے گی تو انارکی پھیلے گی، اعظم سواتی کیس میں سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا، اس معاملے پر جے آئی ٹی سے مطمئن نہیں ہوں، آئی جی اسلام آباد معاملے پر میری نظرمیں اعظم سواتی درست ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ماضی میں ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے لوگوں نے بہت پیسے بنائے، ڈالر کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول ہونا چاہیے، گزشتہ حکومت نے 5 ارب ڈالر صرف ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے پر خرچ کیے، ڈالر کو مصنوعی طریقے سے روکنے پر معیشت کو بہت نقصان ہوا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں