اسلام آباد : وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی ونگ نے بجٹ پر مشاورت کا آغاز کردیا، جس کا مقصد ایسی ٹیکس پالیسی مرتب کرنا تھا جو پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں وزارت خزانہ کا اوورسیز انوسٹر چیمبرز کے ساتھ بجٹ تجاویز پر سیشن ہوا، بجٹ کی تیاری کے مشاورتی سیشن میں 200 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔
اوورسیز انوسٹر چیمبرنے سیشن کا مقصد آئندہ بجٹ میں ایسی ٹیکس پالیسی مرتب کرنا تھا جو پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دے۔
اوورسیز انوسٹر چیمبرز نے وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی ڈائریکٹریٹ کو ٹیکس پالیسی پر تجاویز پیش کیں، ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی ڈاکٹر نجیب میمن نے اوورسیز انوسٹر چیمبر کے ساتھ مشاورت کی۔
ڈاکٹر نجیب میمن نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں ایسی ٹیکس پالیسی متعارف کرانا چاہتے ہیں جو کاروبار کو دوستانہ ماحول فراہم کرے، اوورسیز انوسٹر چیمبرز کی حقیقت پسندانہ تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
بجٹ تجاویز سیشن سے خطاب میں صدر اوورسیز انوسٹر چیمبر یوسف حسین نے کہا کہ پالیسی میں تسلسل سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے، آئندہ بجٹ کی ٹیکس پالیسی قومی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئی۔
یوسف حسین کا کہنا تھا کہ ایسی ٹیکس پالیسی کی ضرورت ہے جو صنعتوں کو، روزگار کو اور برآمدات کو فروغ دے۔
سیکریٹری جنرل اوورسیز انوسٹر چیمبر عبدالعلیم نے بجٹ تجاویز سیشن سے خطاب میں کہا کہ ٹیکس اصلاحات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور ٹیکس ری فنڈ کی بروقت ادائیگی سے کاروبار اور صنعت کو فروغ حاصل ہوگا۔


