The news is by your side.

Advertisement

سیاہ فام امریکی کا قتل، ایک اور پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج

واشنگٹن : عدالت نے سیاہ فام امریکی کے بہیمانہ قتل میں ملوث ایک اور سابق پولیس افسر کے خلاف قتل میں معاونت کا مقدمہ درج کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے جاری ہیں تاہم امریکا میں یہ احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوچکے ہیں جہاں اب تک سینکڑوں گاڑیاں اور سرکاری املاک نذر آتش کی جاچکی ہیں جبکہ کئی دکانیں سپر مارکیٹیں بھی لوٹی جاچکی ہیں۔

امریکی عدالت نے سیاہ فام افریقی نژاد امریکی شہری جارج فلائیڈ کے قتل میں ملوث دیگر تین پولیس افسران میں ایک تھامس لین کے خلاف قتل میں اعانت کرنے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ 37 سالہ ملزم تھامس لین کے خلاف پولیس فورس میں شمولیت سے پہلے جرائم اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی متعدد مقدمات سزا کا سامنا کرچکا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ تھامس پولیس فورس میں شامل ہونے قبل ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، قانونی معاملات میں رکاوٹ اور املاک کو نقصان پہنچنے کے مقدمات میں سزا بھگت چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ملزم نے اپنا گریجویشن مکمل کرنے سے قبل ہی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی اور 2010 سے 2017 تک مختلف اقسام کی دس ملازمتوں کا تجربہ رکھتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سابق پولیس اہلکار اگر 10 لاکھ ڈالر جمع کراتا ہے کہ غیر مشروط ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے اور اگر مذکورہ ملزم ساڑھے 7 لاکھ ڈالر ضمانتی مچلکے جمع کرائے گا تو اسے شرائط کے ساتھ رہا کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مظاہرین امریکی سفید فام فوقیت والی یادگار مٹانے لگے

خیال رہے کہ کچھ روز قبل امریکی ریاست مینیسوٹا میں سابق پولیس افسر ڈارک چوون کے تشدد کے باعث سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ ہلاک ہوگیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس افسر متاثرہ شخص کی گردن پر کافی دیر تک گھٹنا رکھے بٹھا رہا جو اس کی موت کا باعث بنا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں