ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

امریکا میں فیڈرل ایجنٹس قاتل بن گئے، اسپتال نرس کو بھی گولی مار دی، ہولناک ویڈیوز وائرل

اشتہار

حیرت انگیز

منیاپولس (25 جنوری 2026): امریکا میں فیڈرل ایجنٹس قاتل بن گئے، ایک اور واقعے میں اسپتال نرس کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

امریکا میں فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ کا سلسلہ نہیں رک سکا ہے، منیاپولس میں بارڈر پیٹرول ایجنٹ نے گولی مار کر ایک اور شخص کو قتل کر دیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق ہلاک شخص کی شناخت 37 سالہ الیکس پریٹی کے نام سے ہوئی ہے، جو اسپتال میں بطور نرس اپنے فرائض انجام دے رہا تھا، رواں ماہ فیڈرل اینجٹس کی فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے، جس کے بعد ایک بار پھر منیسوٹا کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ہلاک شخص کے پاس ہینڈ گن تھی جس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے مزاحمت کی، لیکن موقع پر موجود لوگوں کی ان ویڈیوز میں، جن کی روئٹرز نے جائزے کے بعد تصدیق کی ہے، میں وہ شخص ہاتھ میں بندوق نہیں بلکہ فون پکڑے ہوئے نظر آتا ہے، اور وہ دیگر مظاہرین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جنھیں ایجنٹس نے زمین پر دھکیل دیا تھا۔

گورنر ٹم والز نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے بیانیے کو جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ فوراً امیگریشن آپریشن ختم کریں، اور ہزاروں پُرتشدد، غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسران کو منیسوٹا سے واپس بلائیں۔

صدر ٹرمپ نے منیسوٹا کے گورنر پر لوگوں کو بغاوت پر بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ منیاپولس میں شہری کی ہلاکت پر ٹم والز کی بیان بازی بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔

ویڈیو میں کیا نظر آیا؟


ویڈیوز کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پریٹی فلم بنا رہا ہے جب ایک وفاقی اہلکار ایک خاتون کو ایک طرف دھکیلتا ہے اور دوسری خاتون کو زمین پر گرا دیتا ہے۔ پریٹی اہلکار اور خواتین کے درمیان آ جاتا ہے، پھر اپنا بایاں بازو اٹھا کر خود کو بچانے کی کوشش کرتا ہے کہ اسی دوران اہلکار اس پر مرچوں والا اسپرے کر دیتا ہے۔

اس کے بعد کئی اہلکار پریٹی کو پکڑ لیتے ہیں جو ان کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، اور اسے زبردستی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل زمین پر گرا دیتے ہیں۔ جب اہلکار پریٹی کو دبائے ہوئے ہوتے ہیں تو کوئی شخص ایسی آواز میں چیختا ہے جو بندوق کی موجودگی کے بارے میں انتباہ معلوم ہوتی ہے۔ بعد ازاں ویڈیو فوٹیج میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایک اہلکار پریٹی سے ایک بندوق نکالتا ہے اور اسے لے کر گروہ سے الگ ہو جاتا ہے۔

چند لمحوں بعد، ایک اہلکار جو پریٹی کی پیٹھ کی جانب بندوق تان کر کھڑا ہوتا ہے، تیزی سے اس پر 4 گولیاں چلاتا ہے، جیسا کہ فوٹیج میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد مزید گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جب ایک اور اہلکار بھی پریٹی پر فائر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ابتدائی طور پر تمام اہلکار سڑک پر پڑی پریٹی کی لاش سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ بعد میں کچھ اہلکار پریٹی کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جب کہ دیگر اہلکار تماشائیوں کو پیچھے رکھتے ہیں۔

مظاہرے


پریٹی، جو ایک انتہائی نگہداشت کا نرس تھا، کی فائرنگ کے واقعے کے بعد سینکڑوں مظاہرین اس علاقے میں جمع ہو گئے تاکہ مسلح اور نقاب پوش اہلکاروں کا سامنا کریں، جنھوں نے آنسو گیس اور فلیش بینگ گرینیڈز کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور سان فرانسسکو سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

اس واقعے نے ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان کشیدگی کو بھی بڑھا دیا، جو پہلے ہی 7 جنوری کو ایک اور امریکی شہری رینی گُڈ کی فائرنگ کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ سے اختلافات کا شکار تھے۔ انھوں نے اس واقعے کی تحقیقات میں مقامی حکام کو شریک کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ظہران ممدانی


منی سوٹا میں فائرنگ کے ایک اور واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے میئر نیو یارک ظہران ممدانی نے کہا کہ وفاقی امیگریشن حکام عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹ کو ختم کیا جائے، امیگریشن اہلکار ہمارے شہروں میں خوف پھیلا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری اوّلین ترجیح ہے، یہ عمل قانون اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، ہر شہر کو محفوظ بنانے کے لیے مقامی اور وفاقی تعاون ضروری ہے۔ ظہران ممدانی کا مزید کہنا تھا کہ شہری خوف زدہ ہیں، وفاقی حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے، عوام کے تحفظ کے لیے غیر تربیت یافتہ اہلکار فوری ہٹائے جائیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں