منی ایپولس (09 جنوری 2026): امریکا کی ریاست منی ایپولس میں امیگریشن حکام کی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون کی ہلاکت پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے، بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ٹرمپ کی ملک گیر امیگریشن کریک ڈاؤن مہم کے دوران پیش آئے واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی کی صورتحال ہے۔ جبکہ معاملے کی تحقیقات ایف بی آئی کے سپرد کردی گئی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق خاتون کو بالکل قریب سے اس وقت گولی ماری گئی جب وہ بظاہر ان ایجنٹوں سے گاڑی دور لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں جنھوں نے اس کی کار کو گھیر رکھا تھا۔ خاتون کی شناخت رینی نکول گڈ کے نام سے ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق معاملے کی تحقیقات ایف بی آئی کے سپرد کردی گئی ہے۔ ان تحقیقات کا (BCA) حصہ نہیں ہوگا۔ پہلے یہ بات کہی گئی تھی کہ دونوں ریاستی اور وفاقی ایجنسیاں کیس کی مشترکہ طور پر جانچ کریں گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا کے منی ایپولس میں ایک امیگریشن افسر نے خاتون ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
یہ واقعہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایک بڑے امریکی شہر میں امیگریشن کے خلاف تازہ ترین کریک ڈاؤن کے دوران پیش آیا۔
وفاقی حکام کا کہنا تھا کہ یہ فائرنگ اپنے دفاع میں کی گئی، تاہم شہر کے میئر نے اسے لاپروا اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔
امریکا، فیڈرل ایجنٹس نے فائرنگ کرکے مزید 2 افراد کو زخمی کردیا
37 سالہ خاتون کو شہر کے ڈاؤن ٹاؤن کے جنوب میں واقع ایک برف پوش رہائشی محلے میں، اپنے ایک خاندانی رکن کے سامنے سر میں گولی ماری گئی۔ یہ مقام چند بلاکس کے فاصلے پر واقع ان قدیم ترین امیگرنٹ مارکیٹوں کے قریب ہے، اور اس جگہ سے تقریباً ایک میل دور ہے جہاں 2020 میں پولیس نے جارج فلائیڈ کو ہلاک کیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


