The news is by your side.

Advertisement

مردان میں 4 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

پشاور: صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان میں کمسن بچی سے زیادتی کا ایک اور ہولناک واقعہ پیش آگیا۔ گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار میں 4 سالہ بچی عاصمہ کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار میں 3 سے 4 دن قبل کھیتوں سے 4 سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔ پولیس 3 دن گزر جانے کے باوجود بچی کے قاتلوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے اور تفتیشی ٹیمیں اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہیں۔

گزشتہ شب پولیس نے بچی کے پڑوس میں چھاپے مار کر متعدد خواتین سمیت 70 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جنہیں مختلف تھانوں میں رکھا گیا اور منگل کی صبح ان میں سے بیشتر افراد کو رہا کر دیا گیا۔

تین دن گزر جانے کے باوجود فرانزک رپورٹ بھی سامنے نہیں آسکی جس کی وجہ سے اب تک بچی کے ساتھ تشدد اور زیادتی کا معاملہ اندھیرے میں ہے۔

پولیس ان افراد کو بھی تلاش کر رہی ہے جنہوں نے کھیتوں میں عاصمہ کی لاش کو دیکھا اور اسے وہاں سے اٹھایا تھا۔

مقتول بچی عاصمہ کے خاندان کا تعلق براوال ضلع دیر سے ہے اور یہ خاندان گزشتہ 15 سال سے گوجر گڑھی کے علاقے جندر پار میں مقیم ہے۔ عاصمہ کے والد بہرام 6 ماہ قبل سعودی عرب سے وطن واپس آئے تھے۔

بچی کے چچا محمد ظاہر نے بتایا کہ وہ پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں جبکہ ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار امان اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔ انہیں اب تک میڈیکل رپورٹ اور ایف آئی آر کی کاپی بھی نہیں دی گئی ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی احتجاج کیا کہ گزشتہ رات پولیس ان کی باپردہ خواتین کو تھانے لے گئی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تھانے میں لے جانا زیادتی ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ خواتین سے بیان لینا ہو تو گھر پر لیا جائے، رات کو تھانوں میں خواتین کو لے جانا مناسب نہیں ہے۔


بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی: ضلع ناظم

دوسری جانب ضلع ناظم مردان حمایت اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 4 سال کی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ بچی کے قتل سے متعلق حقائق چھپائے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ چھپائی جارہی ہے۔ انہوں نے بچی کی میڈیکل رپورٹ دیکھی ہے اس میں زیادتی کا ذکر تھا۔


خیبر پختونخواہ اسمبلی میں تحریک التوا

ادھر خیبر پختونخواہ اسمبلی میں 4 سال کی بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے خلاف تحریک التوا جمع کروا دی گئی۔

تحریک التوا ضیااللہ آفریدی نے جمع کروائی جس میں کہا گیا ہے کہ پختونخواہ کی مثالی پولیس معاملے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واقعے کی نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

تحریک التوا میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کیا جائے۔


آئی جی خیبر پختونخواہ کی پریس کانفرنس

بعد ازاں انسکپٹر جنرل خیبر پختونخواہ صلاح الدین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ 13 جنوری کو پیش آیا۔ اس روز عاصمہ لاپتہ ہوئی، 9 بجے کے بعد متعلقہ چوکی انچارج کو اطلاع دی گئی۔

لاش ملنے کے بعد بچی کا اسپتال پوسٹ مارٹم ہوا۔ آر پی او اور ڈی پی او 14 تاریخ کو بچی کے گھر گئے اور تفصیلات لیں۔ اس کے بعد تفتیشی ٹیم مقرر ہوئی جس کی سربراہی ڈی پی او مردان نے کی۔ کمیٹی سے روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ لی جارہی ہے۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی۔ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جبکہ رپورٹ جنسی تشدد کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں