The news is by your side.

Advertisement

جیکب آباد : چار سالہ بچی سے زیادتی، حالت خراب، اسپتال منتقل

جیکب آباد: ایک غریب گھرانے کی کم سن بچی لاپتا ہونے کے بعد خالی پلاٹ سے ملی جس کے ساتھ بہیمانہ تشدد اور زیادتی کا انکشاف ہوا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے موسیٰ بلوچ نے بتایا کہ یہ شرم ناک واقعہ جیکب آباد میں پیش آیا، سفاک ملزم یا ملزمان کی جانب سے ایک چار سالہ بچی کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے منہ پر چوٹیں لگی ہوئی ہیں جب کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی بھی تصدیق ہوگئی ہے، بچی کو آپریشن تھیٹر سے وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

نمائندے نے بتایا کہ قبل ازیں بچی کھیلنے کی غرض سے گھر سے باہر نکلی اور اچانک غائب ہوگئی، لوگوں نے چند گھنٹوں بعد اطلاع دی کہ ایک زیر تعمیر گھر کے اندر ایک بچی زخمی حالت میں بے ہوش پڑی ہے،اطلاع ملنے پر اہل خانہ نے بچی کو فوری طور پر سول اسپتال پہنچایا جہاں بچی ایک گھنٹے تک بے ہوش پڑی رہی اور کسی نے اس کا علاج نہیں کیا۔

اہل خانہ کے احتجاج پر ڈپٹی کمشنر نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ایچ او سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم بھیجی جنہوں نے بچی کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا  جہاں بچی کا علاج شروع کردیا گیا کامیاب آپریشن کے بعد بچی کو وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔

 

 

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچی سے زیادتی ہوئی ہے اور تشدد بھی کیا گیا، بچی کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے، بچی کے ہوش میں آنے پر ایکسرے اور الٹرا ساؤنڈ کیا جائے گا۔

اس ضمن میں اے ایس پی سرفراز نواز نے خبر پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے جس پر پولیس جگہ جگہ چھاپے ماررہی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بچی کا تعلق بہت ہی غریب گھرانے سے ہے، ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ڈاکٹر بچی کی مکمل دیکھ بھال کررہے ہیں۔

بچی کا علاج ہم کرائیں گے، وزیر صحت سکندر میندھرو

وزیر صحت سکندر میندھرو نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ بچی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو انجام تک پہنچائیں گے، زیادتی کی شکار بچی کا علاج ہم کرائیں گے اور بچی کے والدین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس، ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم

واقعے کا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوٹس لیا ہے اور ملزمان کو ہر صورت گرفتار کرنے کا حکم جاری کردیا۔

وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شمیم ممتاز نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور بچی کےعلاج کے لیے خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے، میرا بس چلے تو مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کراؤں۔

سزا نہ ملنے سے ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں، سماجی رہنما

سماجی رہنما فرزانہ باری نے کہا کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ ہوچکا ہے، ریاست کا داخلی نظام تباہ ہوچکا، لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا مجرموں کی سزا نہیں مل رہی جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہور ہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں