The news is by your side.

Advertisement

چیچہ وطنی :زیادتی کے بعد 8سالہ ذہنی معذور بچی کو جلا کر مار ڈالا

چیچہ وطنی : سفاک شخص نےمبینہ زیادتی کے بعد آٹھ سالہ بچی کوجلا کرمار ڈالا، جس کے باعث شہرمیں شٹرڈاؤن ہڑتال جبکہ کاروباری مراکز، دفاتر اور اسکول بند اور  بارایسوسی ایشن کی بھی ہڑتال ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیچہ وطنی کے نواحی علاقے محمد آباد میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا ، جہاں درندہ صفت قاتل نے ذہنی معذور آٹھ سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور جلا کر قتل کردیا۔

بچی کے قتل کے خلاف شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے ، اسکول دفاتر،کاروباری مراکز بند ہے جبکہ چیچہ وطنی بارایسوسی ایشن بھی ہڑتال پر ہے۔

خیال رہے کہ تین دن قبل ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ نور فاطمہ کو اتوار کو گھر کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی تھی، بعد ازاں ملزمان معصوم بچی کو جلانے کے بعد اس کے گھر کے نزدیک پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔

جھلسی ہوئی نور فاطمہ کو شدید زخمی حالت میں علاج کے لئےلاہورمنتقل کیا گیا لیکن بچی کی جان بچ نہ پائی۔

اہلخانہ کاالزام ہےکہ بچی کو زیادتی کے بعد جلا کرقتل کیاگیا، بچی کے اہلخانہ نے چیف جسٹس اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

پولیس نے نامعلوم ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔ ایف آئی آر میں زیادتی کے دفعہ شامل نہیں کی، پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد زیادتی کی تصدیق ہوسکے گی۔

معصوم مقتولہ کی نماز جنازہ دو بجے ادا کی جائے گی۔


مزید پڑھیں :  زینب کے بعد مبشرہ زیادتی کے بعد قتل


یادرہے چند روز قبل جڑانوالہ میں درندہ صفت قاتلوں  نے   6سال کی بچی کو  درندگی کا نشانہ بنایااورگلا دبا کرقتل کردیا تھا، جس کے بعد  قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف جڑانوالہ میں تاجر برادری ہو یا وکلا ء یا عام شہری سب نے شدید احتجاج کیا۔

بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جڑانوالا میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی تھی۔

واضح رہے کہ قصور کی 7 سالہ ننھی زینب کے ساتھ درندگی کے واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب کچھ عرصہ قبل معصوم کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر بے دردی سے قتل کردیا گیا، تحقیقات کے بعد قتل کے مرکزی ملزم عمران کو عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں