بدھ, اگست 19, 2026
اشتہار

قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 ترامیم کیساتھ منظور

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (2 دسمبر 2025): پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس صدر اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترامیم کیلیے قومی کمیشن برائے اقلیت حقوق بل 2025 کیا۔

اپوزیشن جماعتوں نے بل کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ جے یو آئی (ف) نے شق 35 کو ختم کرنے کی ترمیم پیش کی جسے منظور کیا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کمیشن کے پاس ازخود نوٹس لینے اور سزا و جزا کا اختیار نہیں ہوگا، حکومت نے جے یو آئی (ف) کے مطالبے پر شق 35 ختم کر دی۔

اس پر جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے شق 35 ختم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، کمیشن کے قیام کا مقصد ملک کی اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جائز تجاویز کا ہر صورت جائزہ لیا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے، اقلیتی برادری بھی اتنے ہی اچھے ہیں جتنے ہم ہیں، کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جو فتنہ قادیانیت کو ہوا دے، اقلیتی کمیشن کے قیام کیلیے قانونی بل مشترکہ اجلاس میں لائے ہیں، کمیشن سپریم کورٹ کے حکم پر بنایا جا رہا ہے۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی سے پہلے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی، کمیٹی میں دونوں ایوانوں کے اقلیتی ارکان شامل تھے، پاکستان کے قانون کے تحت قادیانی مسلمان نہیں ہیں، شق 35 کو حذف کر دیا ہے کمیشن کے پاس سزا و جزا کا اختیار نہیں ہوگا، ارکان کو ازخود نوٹس لینے کی شق پر اعتراض ہے تو اسے بھی حذف کر دیتے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں