ہفتہ, دسمبر 13, 2025
اشتہار

باغ و بہار: برصغیر کی مقبول ترین داستان

اشتہار

حیرت انگیز

میر امّن دہلوی کی کتاب باغ و بہار ایک مختصر داستان ہے جو اردو ادب میں امتیازی اور انفرادی اہمیت کی حامل ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا اصل نام قصۂ چہار درویش ہے۔ اسے میر امّن دہلوی نے فورٹ ولیم کالج کے سلسلۂ تصنیف و تالیف اور تراجم کے تحت جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھا۔ مگر عام خیال ہے کہ یہ داستان امیر خسرو کی فارسی داستان قصۂ چہار درویش سے اخذ کردہ ہے، جب کہ اسے فارسی سے ترجمہ کردہ کتاب بھی کہا جاتا ہے۔

میر امّن نے اس کے مقدمہ میں اس داستان کا ماخذ امیر خسرو کی تحریر کردہ داستان بتاتے ہیں۔ یہی بات فورٹ ولیم کالج کے سربراہ جان گلکرسٹ نے اس طرح‌ وضاحت کے ساتھ تحریر کی ہے: یہ قصہ اردو میں ترجمہ ہونے سے پہلے فارسی زبان میں قصۂ چہار درویش کے نام سے ایک زمانے میں مقبولِ خاص و عام رہا ہے۔ اس کی تصنیف کا سبب یہ ہے کہ ایک دفعہ امیر خسرو کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی طبیعت ناساز ہوئی، تب ان کا دل بہلانے کے لیے امیر خسرو نے یہ قصہ فارسی زبان میں کہا۔ اردو میں اس کا ترجمہ سب سے پہلے میر حسین عطا خان تحسین نے کیا اور اس کا نام نو طرزِ مرصع رکھا۔ لیکن اردو زبان کے ایک معیاری نمونے کی حیثیت سے ان کا یہ ترجمہ ناقص قرار پایا کیوں کہ اس میں عربی اور فارسی کے فقروں اور محاوروں کی بہتات ہے۔ اس نقص کو دور کرنے کے لیے میر امّن عالم و فاضل، دلّی والے جو کہ فورٹ ولیم کالج سے وابستہ ہیں، عطا خان تحسین کے ترجمے سے یہ نیا اسلوب (version) نکالا ہے۔

اس کے بعد یہ بحث ختم ہوجانی چاہیے کہ یہ فارسی داستان کا ترجمہ نہیں بلکہ باغ و بہار میر امّن کی تصنیف ہے اور اخذ کردہ ہے، مگر اکثر اہلِ‌ قلم اور مضمون نگار اس پر بحث سے خود کو بچا نہیں سکے اور اس کی بڑی وجہ شاید یہ رہی کہ ان کی اکثریت نے کتاب کا مقدمہ پڑھنے کی زحمت نہیں کی اور وہ ترجمہ و ماخوذ میں تمیز نہیں کرسکے۔ دراصل اس کتاب کا عنوان بھی الجھن میں ڈال دیتا ہے اور عام قاری تو ایک طرف ہمارے اہلِ قلم بھی اسے امیر خسرو سے منسوب فارسی قصّۂ چہار درویش سمجھنے لگتے ہیں۔

اصل قصّہ اور فورٹ ولیم کالج
دوسری طرف ادب کے ناقدین اور محققین نے لکھا ہے کہ اس کا کہیں کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ امیر خسرو نے فارسی میں ایسی کوئی داستان لکھی تھی۔ یہ ان سے صرف منسوب ہے اور یہ بات پایۂ استناد کو نہیں پہنچتی۔ حافظ محمود شیرانی جیسے محقق کے مطابق اس قصے کا امیر خسرو سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ قصّہ محمد علی معصوم کی تصنیف اور باغ و بہار کی شکل میں فورٹ ولیم کالج کی دین ہے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر انگریزوں کو اردو اور دوسری مقامی زبانیں سکھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس وقت کے قابل و باصلاحیت اساتذہ اور اہلِ قلم سے تصنیف و تالیف اور تراجم کا کام لیا جاتا رہا تھا۔ یہیں میر امّن کو بھی ملازم رکھا گیا تھا جن کی یہ تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ بعد کے ادوار میں چند دوسرے نام بھی لیے جانے لگے جن کی فارسی زبان میں اس تمثیل کو میر امّن نے اردو میں ڈھالا۔ مولوی عبد الحق کے مطابق باغ و بہار کا اصل ماخذ عطا حسین تحسین کی نو طرزِ مرصع ہی ہے اور یہ کتاب قصّہ چہار درویش کا ترجمہ ہے۔ اس بحث کو چھوڑ دیں‌ تو ناقدین باغ و بہار کو جدید اردو نثر کا پہلا صحیفہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس داستان کے بعد اردو نثر میں پہلی مرتبہ سلیس زبان اور آسان عبارت آرائی کو رواج ملا جسے غالب نے درجۂ کمال کو پہنچایا اور بعد میں آنے والے اہلِ قلم نے اس میں اپنا حصّہ ڈالا۔ بقول سیّد محمد، "میر امن نے باغ و بہار میں ایسی سحر کاری کی ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے مقبول رہے گی اور اس کی قدر و قیمت میں مرورِ ایام کے ساتھ کوئی کمی نہ ہوگی۔”

کالج میں سلسلۂ تالیفات و تراجم کیوں شروع ہوا؟
جب 1800ء کے قریب تقریباً پورے ہندوستان پر انگریز غلبہ پاچکے تھے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت یہاں تعلیم اور دوسرے شعبہ جات میں انتظامات انگریز افسروں کے ہاتھ میں آگئے تھے تو انھیں ہندوستانی زبانیں سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ امور سلطنت چلانے میں آسانی ہو۔ اس خیال کے تحت کلکتہ میں ” فورٹ ولیم کالج ” کا قیام علم میں لایا گیا اور گلکرسٹ کو ہندوستانی زبان کے شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اسی نے میر امّن اور دوسرے ادیبوں کو قدیم قصے کہانیوں کے تراجم کی ذمے داری سونپی۔ اس کی سرپرستی میں متعدد کتابیں شایع ہوئیں‌ اور ان میں سب سے مقبول باغ و بہار تھی۔

میر امّن کا مقدمہ
یہ ہم میر امّن کی زبانی جانتے ہیں جنھوں نے اس کتاب کے مقدمہ میں اس کی وضاحت کی ہے، وہ لکھتے ہیں: "صاحبانِ ذی شان (کالج کے سربراہان) کو شوق ہوا کہ اردو زبان سے واقف ہو کر ہندوستانیوں سے گفت و شنید کریں اور ملکی کام کو بہ آگاہی تمام انجام دیں۔ اس واسطے کتنی کتابیں اسی سال بموجب فرمائش کے تالیف ہوئیں۔

جو صاحبِ دانا اور ہندوستان کی زبان بولنے والے ہیں، ان کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ قصہ چار درویش کا، ابتدا میں امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا کہ حضرت نظام الدین اولیاء، زری زر بخش، (جو ان کے پیر تھے اور درگاہ ان کی دلّی میں، قلعے سے تین کوس، لال دروازے کے باہر، مٹیا دروازے سے آگے، لال بنگلے کے پاس ہے) ان کی طبیعت ماندی ہوئی۔ تب مرشد کا دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کہتے اور تیمار داری میں حاضر رہتے۔ اللہ نے چند روز میں شفا دی۔ تب انہوں نے غسلِ صحت کے دن یہ دعا دی کہ جو کوئی اس قصے کو سنے گا، خدا کے فضل سے تندرست رہے گا۔ جب یہ قصہ فارسی میں مروج ہوا۔

اب خداوندِ نعمت، صاحبِ مروت، نجیبوں کے! قدر دان، جان گلکرسٹ صاحب نے (کہ ہمیشہ ان کا اقبال زیادہ رہے، جب تلک گنگا جمنا بہے) لطف فرمایا کہ اس قصے کو ٹھیٹھ ہندوستانی گفتگو میں جو اردو کے لوگ، ہندو مسلمان، عورت مرد، لڑکے بالے، خاص و عام آپس میں بولتے چالتے ہیں، ترجمہ کرو۔ موافقِ حکم حضور کے، میں نے ابھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔”

کتاب کب لکھی گئی؟
میر امّن کا مقدمہ بتاتا ہے کہ مصنّف و مترجم نے 1801ء کے آغاز میں اسے تحریر کرنے کے لیے قلم اٹھایا اور اگلے برس 1802ء میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ محققین کے مطابق پہلی مرتبہ 1802ء میں اس کے 102 صفحات گلکرسٹ کے ایک ”انتخابِ ہندی مینول” میں چہار درویش کے عنوان سے شائع کیے گئے تھے مگر مکمل کتاب بعنوان باغ و بہار 1803ء میں کلکتہ سے شائع ہوئی۔ بعد میں اس کے متعدد نسخے بازار میں دست یاب ہوئے

میر امّن دہلوی کا تعارف
میر امّن کے آباء و اجداد اور خود ان کے ابتدائی حالاتِ زندگی بہت کم دست یاب ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کے بزرگ مغلیہ عہد میں ہندوستان آئے تھے۔ یہاں شاہی دربار اور امراء میں کسی طرح پہچان بنی تو ہر دور میں منصب اور جاگیریں پائیں۔ میر امّن کی پیدائش دلّی کی ہے۔ ہندوستان کے اسی مشہور شہر میں تعلیم و تربیت پائی۔ مگر سیاسی فضا بدلی تو دلّی چھوڑ کر عظیم آباد (پٹنہ) کا رخ کیا۔ وہاں طویل عرصہ گزارنے کے بعد میر امّن 1798 میں کلکتہ پہنچے۔ میر بہادر علی حسینی کے توسط سے فورٹ ولیم کالج میں ملازم ہوئے اور 1806ء میں کالج کی خدمات سے سبک دوش ہوگئے۔ اس وقت ضعیف تھے اور نہیں معلوم کہ ان کا درست سنہ وفات کیا ہے۔

اس قصہ کے مرکزی کردار
باغ و بہار تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے اپنے دور کی بڑی اہم اور دل چسپ کتاب مانی جاتی ہے۔ اس داستان کا مرکزی کردار بادشاہ آزاد بخت ہے جو عادل اور سخی مشہور ہے اس کے علاوہ وہ چار درویش اس کے بنیادی کردار ہیں جن کی آپس کی گفتگو پر یہ قصّہ طویل ہوتا جاتا ہے۔ اس کا آغاز بادشاہ کے حالات و اوصاف کے بیان سے ہوتا ہے جو کہ ہر قسم کے آسائش و آرام کے باوجود تشنہ و بے چین تھا کیوں کہ اسے خدا نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا۔ اسی غم میں وہ تخت و تاج سے بیزار ہوجاتا ہے اور ایک روز محل سے نکل جاتا ہے جہاں ویرانے میں اسے چار درویش باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ بادشاہ آزاد بخت چھپ کر ان کی باتیں سننے لگتا ہے اور یوں پوری داستان انہی مرکزی کرداروں پر پھیل گئی ہے۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں