The news is by your side.

Advertisement

آفتابِ سخن میر انیس کا یومِ وفات

میر انیس کو اردو زبان کا فردوسی کہا جاتا ہے جو 10 دسمبر 1874ء کو وفات پاگئے تھے۔ آج جہانِ سخن کے اس نام وَر اور قادرُ الکلام شاعر کا یومِ وفات ہے۔

میر انیس 1803ء میں محلہ گلاب باڑی فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر مستحسن خلیق، دادا میر حسن اور پردادا امیر ضاحک قادر الکلام شاعر تھے اور انیس نے اس ورثے کے ساتھ شعروسخن کی دنیا میں‌ بڑا نام و مقام حاصل کیا۔

میر انیس کو بچپن ہی سے شاعری سے شغف تھا۔ ابتدائی زمانہ میں انھوں نے حزیں تخلص کیا اور بعد میں اپنے وقت کے مشہور شاعر استاد ناسخ کے مشورے سے انیس رکھا۔ میر انیس نے غزلیں بھی کہیں مگر مرثیہ گوئی میں کمال حاصل کیا اور اس صنفِ سخن کو بلندی پر پہنچا دیا۔

میر ببر علی انیس کو وفات کے بعد ان کے مکان میں سپردِ خاک کیا گیا اور 1963ء میں ان کے مدفن پر عالی شان مقبرہ تعمیر کروایا گیا۔

میر انیس نے مرثیہ گوئی میں‌ جو کمال اور نام و مرتبہ حاصل کیا اردو ادب میں اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ انھیں‌ آج بھی انسانی جذبات اور ڈرامائی انداز میں‌ شاعری کے ذریعے اپنا مدعا بیان کرنے والے شعرا میں سرفہرست رکھا جاتا ہے۔

انیس کا کمال یہی نہیں تھاکہ بلکہ انھوں نے زبان و بیان کے حوالے سے بھی اردو مرثیہ کو اس خوب صورتی سے سجایا کہ اس کی مثال نہیں‌ ملتی۔شاعری میں منظر نگاری، کردار اور واقعہ پیش کرنا میر انیس کا ہی ہنر عظیم تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں