The news is by your side.

Advertisement

میاں بیوی کا “مشترکہ” شعر!

میر انیس نے ایک مرثیے میں دعائیہ مصرع لکھا۔

”یارب رسولِ پاک کی کھیتی ہری رہے“ مگر خاصی دیر تک دوسرا مصرع موزوں نہ کرسکے۔

وہ اِس مصرع کو شعر کرنے کی فکر میں ڈوبے ہوئے تھے کہ ان کی اہلیہ سے نہ رہا گیا، وہ ان سے پوچھ بیٹھیں‌ کہ کس سوچ میں ہیں؟

میر انیس نے اپنا یہ مصرع پڑھا اور کہا کہ شعر مکمل کرنا چاہتا ہوں‌، مگر کچھ موزوں‌ نہیں‌ ہو رہا۔

بیوی نے بے ساختہ کہا یہ لکھ دو، ”صندل سے مانگ، بچوں سے گودی بھری رہے“

میر انیس نے فوراً یہ مصرع لکھ لیا اور یہی شعر اپنے مرثیے میں‌ شامل کیا۔

یا رب رسولِ پاک کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ، بچوں سے گودی بھری رہے

اگر میر انیس کے مرثیوں‌ کا مطالعہ کریں‌ تو ایک جگہ یہ شعر یوں‌ ملتا ہے اور اسے محافل میں‌ بھی اسی طرح‌ پڑھا جاتا ہے۔

بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ، بچوں سے گودی بھری رہے

ادبی تذکروں میں‌ آیا ہے کہ مرثیے کے اس مطلع کا پہلا مصرع میر انیس کا دوسرا ان کی بیوی کا ہے۔ یہ شعر زبان کی لطافت اور محاورے کی چاشنی کی وجہ سے بہت مشہور ہوا اور ضرب المثل ٹھیرا۔ آج بھی جب خاص طور پر کربلا کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں‌ تو میر انیس کا یہ دعائیہ شعر ضرور پڑھا جاتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں