کراچی (14 اگست 2026): شہر قائد کے نوجوان تاجر میر رضا کیس میں نیا موڑ آیا ہے اور کرائم سین سے متعلق اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور پولیس نے کرائم سین پر عارضی پوسٹ بنا دی ہے۔
میر رضا کی لاش ملنے والی جگہ پر عارضی پوسٹ بنانے کے بعد پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے، جو 24 گھنٹے دو شفٹوں میں وہاں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے نگرانی کریں گے۔
پہلی شفٹ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک اور دوسری شفٹ رات 8 سے صبح 8 بجے تک ہو گئی۔
چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کے کیس مکمل ختم ہونے تک کرائم سین چھوڑنے پر پابندی عائد ہو گی۔
Mir Raza Ali case- All Updates
واضح رہے کہ 25 سالہ میر رضا علی کا کیس شہر قائد کا ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے۔ وجوان تاجر کی لاش گزشتہ ماہ 29 جولائی کو ملی تھی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ تاہم اہل خانہ کا پہلے دن سے موقف تھا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا۔
پہلی پوسٹمارٹم رپورٹ میں کئی سقم اور اہم شواہد نظر انداز کیے جانے کے باعث اہلخانہ کے موقف کو تقویت ملی اور عدالت کے حکم پر میر رضا کی قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹمارٹم کیا گیا، جس میں یہ ثابت ہو گیا کہ گولی کمر سے لگ کر سینے سے نکلی تھی۔ اس کے علاوہ پسلیاں ٹوٹنے اور سر پر چوٹوں کی تصدیق ہوئی۔
سندھ فارنزک لیبارٹری نے مقتول کی شناخت اور خون کے نمونوں کی تصدیق کر دی ہے۔
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کے مطابق مقتول کے چہرے پر تیزاب ڈالا گیا اور بے ہوشی کی دوا دی گئی۔ اہل خانہ نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


