کراچی (9 اگست 2026): نوجوان میر رضا کیس میں سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے اور مقتول کے اہلخانہ کے وکیل نے تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق نوجوان میر رضا کیس میں ایک اور سنسنی خیز موڑ سامنے آیا ہے اور مقتول کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے تہلکہ خیز انکشاف کر کے اس کیس میں ایک نیا زاویہ کھول دیا ہے۔
وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ پولیس حکام میر رضا کیس میں تفتیش نہیں کر رہے بلکہ متاثرہ خاندان کو ہراساں کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس حکام مقتول کے اہلخانہ کو اپنے دفتر میں بٹھا کر بار بار کہتے ہیں کہ ہمارا تجربہ ہے کہ آپ کے بیٹے نے خودکشی کی ہے۔
جبران ناصر نے میڈیا کے سامنے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا علی کی آنکھوں اور چہرے کا حصہ دھنسا ہوا ہے، جیسے کہ اس پر کوئی غیر قدرتی مواد ڈالا گیا ہو۔
اس سے قبل جبران ناصر نے کہا تھا کہ انکوائری کے بعد تمام سوالوں کے جواب سامنے آ جائیں گے کہ میر رضا کا قتل کیا گیا تھا یا یہ خودکشی تھی۔ اس بات کا بھی باقاعدہ پتہ چل جائے گا کہ میر رضا پر تشدد کیا گیا ہے یا نہیں اور اس بہیمانہ تشدد میں کتنے لوگ ملوث تھے۔
واضح رہے کہ میر رضا کی قبر کشائی کے بعد لاش کے دوبارہ پوسٹمارٹم میں ثابت ہو گیا کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی تھی، جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک ٹیم کو تمام 14 پوائنٹس کے جوابات مل گئے ہیں۔
میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی، ابتدائی میڈیکل رپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں


