جمعرات, اگست 20, 2026
اشتہار

میر رضا علی کیس: میڈیکل ماہرین نے بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھادیے

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: سینئر ڈاکٹرز اور میڈیکل ماہرین نے میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھا دیے اور شبہ ظاہر کیا زخموں کی پیمائش میں غلطی ہوئی یا اندراج درست نہیں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متعدد مبینہ تضادات اور اہم نکات سامنے آگئے، ذرائع نے بتایا سینئر ڈاکٹرز اورمیڈیکل ماہرین نے بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھا دیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گولی کے داخل ہونے کے زخم کی پیمائش 1.8 ضرب 1.6 سینٹی میٹر ہے، جبکہ گولی کے خارج ہونے کے زخم کی پیمائش 1 ضرب 1.2 سینٹی میٹر درج کی گئی ہے، عام طور پر گولی کے داخل ہونے کا زخم چھوٹااورخارج ہونے کا زخم بڑا ہوتا ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج پیمائشیں کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، شبہ ہے کہ زخموں کی پیمائش میں غلطی ہوئی یا اندراج درست نہیں کیا گیا کیونکہ اگر گولی واقعی پیچھے سے لگی تو واقعے کی نوعیت پر نئے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں : میر رضا کیس، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے نئے سوالات کھڑے کر دیے (رائے)

ذرائع نے کہا کہ عقب سے گولی لگنے کا مطلب خودکشی نہیں بلکہ قتل ہوتا ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق چہرہ جسم کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ گل چکا تھا اور رپورٹ میں کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے یا چہرے پر کسی بڑی چوٹ کا ذکر موجود نہیں۔

چہرے کی غیر معمولی حد تک خرابی کی وجہ رپورٹ میں واضح نہیں کی گئی ، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ چہرہ باقی جسم سے زیادہ خراب کیوں ہوا ؟

پوسٹ مارٹم کے مطابق گولی لگنے سے دل کی شریانیں متاثر ہوئیں ، سینے میں کافی مقدار میں خون جمع تھا اور شدید اندرونی خون بہنے کے آثار موجود تھے، اس کے برعکس جائے وقوعہ سے خون ملنے کا ذکر نہ ہونا بھی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موجود ان الجھنوں اور تضادات کی موجودگی میں کیس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے مزید طبی، قانونی اور فرانزک جانچ انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔

اہم ترین

نذیر شاہ
نذیر شاہ
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ نمائندہ خصوصی ہیں، وہ 16 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔

مزید خبریں