کراچی: میر رضا علی کے والد میر حسین علی نے دعویٰ کیا ہے کہ میرے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے بے رحمی سے قتل کیا گیا، کسی کو بچانے کیلئے پورا بیانیہ تبدیل کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میر رضا علي کے والد میر حسین علی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘باخبر سویرا’ میں گفتگو کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کی تحقیقات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دعویٰ کیا میرے اکلوتے بیٹے نے خودکشی نہیں کی ، اسے بے رحمی سے قتل کیا گیا ہے، خودکشی کرنا ہوتی تو اتنی دور کیوں جاتا۔
غمزدہ والد میر حسین علی نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، "میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو خود قبر میں اتارا اور کاندھا دیا ہے، جب کہ اس نے مجھے کاندھا دینا تھا، میرا بیٹا ایک کامیاب بزنس مین تھا اور چار دکانیں چلاتا تھا، وہ کبھی خودکشی نہیں کر سکتا۔”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اصل قاتلوں اور کسی بااثر شخصیت کو بچانے کے لیے پورا بیانیہ تبدیل کیا جا رہا ہے۔
والد کا کہنا تھا کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کا پوسٹ مارٹم کر کے لاش ہمارے حوالے کر دی گئی، اب ہمارے بچے کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور اصل قتل کو چھپانے کے لیے فیملی کو بھی بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
Mir Raza Ali case- All Updates
میر حسین علی نے واقعے کی نوعیت پر اہم تکنیکی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا "میرے بیٹے کو پیچھے سے گولی ماری گئی ہے، انسان خود کو پیچھے سے گولی نہیں مار سکتا، یہ ایک الگ طریقے کا سفاکانہ قتل لگتا ہے، بچے کا چہرہ خراب کیا گیا ہے لاش کے ہاتھ اور پاؤں ڈی کمپوز نہیں ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نرسری والے نے تین لوگوں کو بیان دیا اور ان کے سامنے بھی اقرار کیا کہ وہ 29 تاریخ کو پودوں کو پانی دینے آیا تو لاش وہاں موجود تھی۔
والد نے سوال اٹھایا کہ "صبح ساڑھے تین بجے موٹر سائیکل پر آنے والے لوگوں کی ویڈیو کہاں ہے؟ جب موٹر سائیکل آئی تو نیچے پلر کے پاس لوگ بھی موجود تھے، ان تمام حقائق کو کیوں چھپایا جا رہا ہے؟”
والد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے قتل کی شفاف اور بے لاگ تفتیش کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔


