بدھ, ستمبر 16, 2026
اشتہار

میر رضا علی کیس: وکیل نے تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (8 اگست 2026): مبینہ طور پر قتل ہونے والے میر رضا علی کے وکیل جبران ناصر نے کیس کی تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ پولیس تفتیش نہیں کی جا رہی بلکہ میر رضا علی کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اے آئی جی کراچی نے کہا کہ خاندان مان لے کہ میر رضا علی نے خودکشی کی ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ میں نوجوان پر تشدد ثابت ہوگیا، اس کی تھوڑی پر انجری ہوئی تھی جبکہ ماتھے پر بھی چوٹ کا نشان تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ والدین کے حوالے کر دی گئی

وکیل جبران ناصر نے کا کہ لگتا ہے کہ میر رضا علی کو قتل کرنے سے پہلے مکے مارے گئے، ثابت ہوگیا کہ اس کی کمر پر گولی لگی جس کے اثرات پانچویں پسلی پر آئے، گولی کی وجہ سے اس کے پھیپڑوں میں خون جمع ہوگیا۔

تحقیقاتی ٹیم پر بھروسہ نہیں

انہوں نے کہا کہ اے آئی جی اور ایس ایس پی کی تحقیقاتی ٹیم پر بھروسہ نہیں، ہم پوری تفتیشی ٹیم کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم عدالت میں جا کر اپنی استدعا رکھیں گے۔

ازدواجی معاملات کی خبروں پر آئی جی وضاحت دیں

میر رضا علی کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ پولیس تفتیش کے نام پر ازدواجی معاملات کی خبروں پر آئی جی وضاحت دیں، پولیس کو ڈر ہے کہ کہیں قاتلوں تک نہ پہنچ جائیں، مالی معاملات پر بحث کی جا رہی ہے اور دباؤ میں لانے کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، پولیس تفتیش نہیں بلکہ فیملی کو ہراساں کر رہی ہے۔

پولیس افسران معاملے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دے رہے تھے

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر کہا گیا کہ ’یہ خودکشی ہے اس کو مان لیں‘، پولیس افسران معاملے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دے رہے تھے، چہرے کے مختلف حصوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، جسم پر کالا مواد ملا جو عموماً نہیں پایا جاتا۔

وکیل جبران ناصر نے مزید کہا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ گولی کمر سے لگی اور سینے سے باہر نکلی، میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں