کراچی (09 اگست 2026): میر رضا علی کے والدین نے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے ثابت ہو گیا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے۔
والدین نے کہا کہ میر رضا علی کی خود کشی پر زور دیا جاتا رہا، ہم دس دن سے کہہ رہے تھے کہ اسے تشدد کر کے قتل کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ بیٹے سے متعلق غلط باتیں پھیلائی گئیں۔
والدین نے سوال اٹھایا کہ ذمے دار ہوتے ہوئے آئی جی سندھ نے غلط بات کیوں کی؟ خود کشی ہوتی تو رپورٹ میں سامنے آ جاتی، ہمیں نہیں معلوم میر رضا علی کے قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں، لیکن پولیس کو سب خبر ہے۔
واضح رہے کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میر رضا کو گولی پیچھے سے لگی، اور جسم پر تشدد کے نشان پائے گئے، پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، پولیس سرجن کے 14 سوالوں کے جواب بھی مل گئے۔
میر رضا علی کیس: نئی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ
نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی اہل خانہ کی موجودگی میں کی گئی، میڈیکل بورڈ نے پوسٹ مارٹم مکمل کیا، مجسٹریٹ کی نگرانی میں نمونے حاصل کیے گئے۔ میر رضا کے والد کا بھی ڈی این اے سیمپل لیا گیا، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے قبر کشائی کے دوران حاصل تمام نمونوں کو محفوظ کر لیا گیا ہے، جامعہ کراچی کی فرانزک لیب میں تمام سیمپلز پیر کو جمع کرائے جائیں گے۔
پولیس اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے
وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس تفتیش کرنے کی بجائے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے، انھیں ڈر ہے کہیں قاتل تک نہ پہنچ جائیں، میڈیکل رپورٹ میں میر رضا پر تشدد ثابت ہو گیا ہے، لگتا ہے اسے قتل کرنے سے پہلے مکے مارے گئے، میر رضا کی تھوڑی پر زخم اور ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا، اس کی کمر پر گولی لگی، پانچویں پسلی پر اثر ہوا، جب کہ کراچی پولیس چیف نے کہا خاندان مان لے کہ میر رضا نے خود کشی کی ہے۔
خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تحلیل
میر رضا کیس میں نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تحلیل کر دی گئی ہے، پولیس ذرائع کے مطابق نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں بنائی جا رہی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی میں ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر بھی شامل ہوں گے، ایس پی کورنگی اور ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشنز بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے سینیئر افسر محمد غضنفر کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔


