کراچی: میر رضا علی کے والد نے بیٹے کی قبر کشائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا موجودہ میڈیکل بورڈ کو قبر کشائی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گلستانِ جوہر سے پراسرار حالت میں لاش ملنے کے واقعے میں نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور مقتول کے والد قبرستان پہنچ گئے۔
تاہم انہوں نے اچانک میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے قبر کشائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
مقتول کے والد میر حسین نے قبرستان پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹے کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مکمل طور پر تیار تھے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے رات کے اندھیرے میں اچانک میڈیکل بورڈ تبدیل کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پراسرار تبدیلی کے بعد وہ موجودہ میڈیکل بورڈ کو قبر کشائی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل تشکیل دیے گئے 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو راتوں رات منسوخ کر کے 5 رکنی نیا بورڈ قائم کیا گیا، جس میں کنوینر ڈاکٹر سمعیہ سید کے علاوہ تمام پرانے ممبران کو ہٹا کر دیگر اضلاع اور جامعات کے ڈاکٹروں کو شامل کر لیا گیا ہے۔
وکیل جبران ناصر نے بھی میڈیکل بورڈ کی اس ناگہانی تبدیلی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ دوسرے شہروں سے ڈاکٹر لا رہی ہے جیسے کراچی سے کوئی ایک ڈاکٹر بھی نہ ملا ہو اور بورڈ سے نکالے گئے ڈاکٹروں کے بارے میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس نئے بورڈ کے تحت صبح پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا جائے گا۔


