کراچی : نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی مؤخر کردی گئی، ممکنہ طور پر نیا نوٹیفکیشن پیر کے لیے جاری ہوسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی قبر کشائی تمام تر انتظامات مکمل ہونے کے باوجود راتوں رات میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کے شدید تحفظات اور عدم اعتماد کے باعث موخر کر دی گئی ہے۔
مقتول کے والد میر حسن نے کیس کے تفتیشی افسر کو تحریری درخواست جمع کرائی ، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پہلے سے تشکیل شدہ آٹھ رکنی بورڈ کے علاوہ کسی بھی نئے بورڈ پر اعتماد نہیں ہے۔
والد نے واضح کیا کہ اگر پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی میں پہلا بورڈ ہی قبر کشائی کرے گا تو اجازت دی جائے گی، بصورت دیگر کسی نئے بورڈ کو قبر کشائی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
اس تنازع پر تفتیشی افسر نے میر رضا کے والد، والدین اور پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا بیان ریکارڈ کرنا شروع کر دیا ہے۔
تفتیشی افسر یہ بیانات متعلقہ جج کو جمع کرائے گا، جس کے بعد جج کی جانب سے سیکریٹری ہیلتھ کو ان تحفظات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے اب ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا امکان ہے، جو ممکنہ طور پر پیر کے دن کے لیے ہو سکتا ہے، کیونکہ ہفتہ اور اتوار کو قبر کشائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ 5 رکنی بورڈ پر اعتراضات کے بعد ایک نیا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں نئے بورڈ کے ساتھ ساتھ پرانی ٹیم کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم فیملی کو اس پر بھی اعتراض رہا۔
اہلخانہ کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل بورڈ کے حوالے سے پرانی تاریخ میں تیسرا نوٹیفکیشن جاری کر کے معمہ بنایا جا رہا ہے جسے ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی سے ڈاکٹر نہ ملنے کے بہانے دوسرے شہروں سے ڈاکٹرز لائے جا رہے ہیں اور پرانے ماہرین کو نکالنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی جا رہی۔
Mir Raza Ali case- All Updates
انہوں نے مجسٹریٹ کو بھی آگاہ کر دیا ہے کہ نیا بورڈ قابلِ قبول نہیں ہے اور کیس کی قبر کشائی میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے۔


