کراچی: میر رضا کیس میں پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پولیس سرجن نے ایس ایس پی ایسٹ کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں 14 خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
پولیس سرجن نے مراسلے میں کہا ہے کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، گن شاٹ ریزیڈیو کے لیے ہاتھوں کے سواب بھی نہیں لیے گئے، گولی لگنے والے زخم پر موجود کیمیکل تجزیے کے لیے نمونہ حاصل نہیں کیا گیا، سر کے معائنے کے لیے جلد نہیں ہٹائی گئی۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آتشی اسلحہ سے زخموں کی پیمائش کے لیے اسکیل کا استعمال نہیں کیا گیا، کرائم سین پر لاش کی مناسب تصاویر بھی نہیں لی گئیں، گولی لگنے والے زخموں کی درست پوزیشن ہڈیوں کی نشانیوں کے مطابق نہیں ہے۔
Mir Raza Ali case- All Updates
پولیس سرجن نے کہا کہ رپورٹ میں داخل ہونے والے زخم کا سائز خارج ہونے والے زخم سے بڑا لکھا گیا ہے، کپڑوں پر موجود پھٹے ہوئے نشانات، ریشوں کی سمت کا ذکر بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ زخموں کی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر بھی دستیاب نہیں، جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کی کیفیت کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی، چہرہ ناقابل شناخت ہونے پر ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق میر رضا کی گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا جس سے اہم شواہد نظر انداز ہونے کا خدشہ ہے، مراسلے میں لاش کی دوبارہ جانچ کی سفارش بھی کی گئی ہے۔


